منن الرحمٰن — Page 130
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۰ منن الرحمن کیا اور عربی زبان میں کوئی دوسری کتاب مدعی بھی نہیں اس لئے بد است قرآن کا منجانب اللہ ہونا اور سب کتابوں پر ہیمن ہونا مانا پڑا ورنہ دوسری کتا بیں بھی باطل ٹھہریں گی لہذا میں نے اسی غرض سے اس کتاب کو لکھا ہے کہ تا اول بعونه تعالی تمام زبانوں کا اشتراک ثابت کروں اور پھر بعد ازاں زبان عربی کے اُم الالسنہ اور اصل الہامی ہونے کے دلائل سناؤں اور پھر عربی کی اس خصوصیت کی بناء پر کہ کامل اور خالص اور الہامی زبان صرف وہی ہے اس آخری نتیجہ کا قطعی اور یقینی ثبوت دوں کہ الہی کتابوں میں سے اعلیٰ اور ارفع اور اتم اور اکمل اور خاتم الکتب صرف قرآن کریم ہی ہے اور وہی اُمّ الکتب ہے جیسا کہ عربی اُم الالسنہ ہے اور اس سلسلہ تحقیقات میں ہمارے ذمہ تین مرحلوں کا طے کرنا ضروری ہوگا۔ پہلا مرحلہ زبانوں کا اشتراک ثابت کرنا۔ دوسرا مرحلہ عربی کا اُم الالسنہ ہونا بپایہ ثبوت پہنچانا۔ تیسرا مرحلہ عربی کا بوجہ کمالات فوق العادت کے الہامی ثابت کرنا۔ مگر چونکہ ہمارے مخالف خوب جانتے ہیں کہ اس تحقیقات سے اگر عربی کے حق میں ڈگری ہو گئی تو صرف یہی ماننا نہیں پڑے گا کہ قرآن منجانب اللہ ہے بلکہ یہ بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ کتاب جو اصل اور کامل اور الہامی زبان میں نازل ہوئی ہے وہ صرف قرآن ہی ہے اور دوسری سب زبانیں اس کی طفیلی ہیں اس لئے ضرور ہے کہ اس سچائی کے کھلنے سے ان تمام قوموں میں بہت ہی سیاپا ہو خاص کر قوم آریہ میں جن کے زعم باطل میں یہ ہے کہ انہیں کی زبان سنسکرت پر میشر کی بولی ہے اور وہی نہایت کامل اور الہامی اور اُم الالسنہ ہے حالانکہ آج تک کوئی ایک شرقی دید کی بھی پیش نہیں کی گئی جس سے معلوم ہو کہ وید نے اپنے منہ سے ایسا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ بھی یادر ہے کہ اس سے پہلے دین اسلام کے مقابلہ پر بعض بد زبان اور نادان آریہ بہت سی یاوہ گوئی کر چکے ہیں اور با وجود سخت جہالت اور بے علمی کے پھر بھی وہ مذہبی مباحثات میں دخل دیتے رہے ہیں اور بعض شریر بے حیا سفلہ طبع نے ناحق وید کی طرف داری