معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 494 of 581

معیارالمذاہب — Page 494

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۹۲ معیار المذاہب انتہائی نقطہ کی طرح ہے جس کے نیچے سے دو عظیم الشان عالم کی دو شاخیں نکلتی ہیں اور ہر یک شاخ ہزار ہا عالم پر مشتمل ہے جن کا علم بجز اس ذات کے کسی کو نہیں جو اس نقطہ انتہائی پر مستوی ہے جس کا نام عرش ہے اس لئے ظاہری طور پر بھی وہ اعلیٰ سے اعلیٰ بلندی جو اوپر کی سمت میں اس انتہائی نقطہ میں متصور ہو جو دونوں عالم کے اوپر ہے وہی عرش کے نام سے عند الشرع موسوم ہے اور یہ بلندی باعتبار جامعیت ذاتی باری کی ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ مبدء ہے ہر یک فیض کا اور مرجع ہے ہر یک چیز کا اور مسجود ہے ہر یک مخلوق کا اور سب سے اونچا ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور کمالات میں ورنہ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ہر یک جگہ ہے جیسا کہ فرمایا أَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ جدھر منہ پھیرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے اور فرماتا ب هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ کے یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ سے یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں۔ یہ تینوں تعلیموں کا نمونہ ہے۔ والسلام على من اتبع الهدى یکم دسمبر ۱۸۹۵ء بروز یک شنبه البقرة: ١١٦ الحدید: ۵ ق:۱۷ بقلم خاکسار هیچمدان از مریدان حضرت مسیح موعود غلام محمد امرتسر عفی اللہ عنہ