مسیح ہندوستان میں — Page 61
روحانی خزائن جلد ۱۵ บ مسیح ہندوستان میں اس قرابا دین کا جس میں مرہم عیسی تھی ترجمہ کیا تو عقلمندی سے شلیخا کے لفظ کو جو ایک یونانی لفظ (۵۹) ہے جو باراں کو کہتے ہیں بعینہ عربی میں لکھ دیا تا اس بات کا اشارہ کتابوں میں قائم رہے کہ یہ کتاب یونانی قرابادین سے ترجمہ کی گئی۔ اسی وجہ سے اکثر ہر ایک کتاب میں شلیخا کا لفظ بھی لکھا ہوا پاؤ گے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اگر چہ پرانے سکے بڑی قابل قدر چیزیں ہیں اور ان کے ذریعہ سے بڑے بڑے تاریخی اسرار کھلتے ہیں لیکن ایسی پرانی کتابیں جو مسلسل طور پر ہر صدی میں کروڑ ہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئیں اور بڑے بڑے مدارس میں پڑھائی گئیں اور اب تک درسی کتابوں میں داخل ہیں ان کا مرتبہ اور عزت ان سکوں اور کتبوں سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ کتبوں اور سکوں میں جعل سازی کی بھی گنجائشیں ہیں لیکن وہ علمی کتا ہیں جو اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئی ہیں اور ہر ایک قوم ان کی محافظ اور پاسبان ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہے۔ ان کی تحریریں بلا شبہ ایسی اعلیٰ درجہ کی شہادتیں ہیں جو سکوں اور کتبوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ اگر ممکن ہو تو کسی سکہ یا کتبہ کا نام تو لو جس نے ایسی شہرت پائی ہو جیسا کہ بوعلی سینا کے قانون نے ۔ غرض مرہم عیسی حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے۔ اگر اس شہادت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے کیونکہ اگر چہ اب تک ایسی کتابیں جن میں اس مرہم کا ذکر ہے قریباً ایک ہزار ہیں یا کچھ زیادہ لیکن کروڑہا انسانوں میں یہ کتابیں اور ان کے مؤلف شہرت یافتہ ہیں ۔ اب ایسا شخص علم تاریخ کا دشمن ہو گا جو اس بدیہی اور روشن اور پر زور ثبوت کو قبول نہ کرے۔ اور کیا یہ حکم پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس قدر عظیم الشان ثبوت کو ہم نظر انداز کر دیں اور کیا ہم ایسے بھاری ثبوت پر بد گمانی کر سکتے ہیں جو یورپ اور ایشیا پر دائرہ کی