مسیح ہندوستان میں — Page 60
روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں (۵۸) ہے کہ ہر ایک صدی میں قریباً کروڑ با انسان ان کتابوں کے نام سے واقف ہوتے چلے آئے ہیں اور لاکھوں انسانوں نے ان کو اول سے آخر تک پڑھا ہے اور ہم بڑے زور سے کہہ سکتے ہیں کہ یورپ اور ایشیا کے عالم لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ ان بعض عظیم الشان کتابوں کے نام سے ناواقف ہو جو اس فہرست میں درج ہیں۔ جس زمانہ میں ہسپانیہ اور کیسمنو اور متلیر نم دار العلم تھے اس زمانہ میں بوعلی سینا کی کتاب قانون جو طب کی ایک بڑی کتاب ہے جس میں مرہم عیسی کا نسخہ ہے اور دوسری کتابیں شفاء اور اشارات اور بشارات جو طبعی اور ہیئت اور فلسفہ وغیرہ میں ہیں بڑے شوق سے اہل یورپ سیکھتے تھے ۔ اور ایسا ہی ابونصر فارابی اور ابوریحان اور اسرائیل اور ثابت بن قرہ اور حنین بن اسحاق اور اسحاق وغیرہ فاضلوں کی کتابیں اور ان کی یونانی سے ترجمہ شدہ کتا میں پڑھائی جاتی تھیں یقیناً ان کتابوں کے ترجمے یورپ کے کسی حصہ میں اب تک موجود ہوں گے ۔ اور چونکہ اسلام کے بادشاہ علم طب وغیرہ کو ترقی دینا بدل چاہتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے یونان کی عمدہ عمدہ کتابوں کا ترجمہ کرایا اور عرصہ دراز تک ایسے بادشاہوں میں خلافت رہی کہ وہ ملک کی توسیع کی نسبت علم کی توسیع زیادہ چاہتے تھے انہی وجوہ اور اسباب سے انہوں نے نہ صرف یونانی کتابوں کے ترجمے عربی میں کرائے بلکہ ملک ہند کے فاضل پنڈتوں کو بھی بڑی بڑی تنخواہوں پر طلب کر کے طب وغیرہ علوم کے بھی ترجمے کرائے پس ان کے احسانوں میں سے حق کے طالبوں پر یہ ایک بڑا احسان ہے جو انہوں نے ان رومی و یونانی وغیرہ طیبی کتابوں کے ترجمے کرائے جن میں مرہم عیسی موجود تھی اور جس پر کتبہ کی طرح یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ مرہم حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار کی گئی تھی ۔ فاضل حکماء عہد اسلام نے جیسا کہ ثابت بن قردہ اور حنین بن اسحاق ہیں جن کو علاوہ علم طب و طبعی و فلسفہ وغیرہ کی یونانی زبان میں خوب مہارت تھی جب ہسپانیہ یعنی اندلس کیم یعنی مسلمو یہ عظیم نم یعنی ستر ین کے منده 1۔ Hispania or Andalusia, Kasmonu or Kastamonu, Satrilnem or Santarem۔