مسیح ہندوستان میں — Page 54
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴ مسیح ہندوستان میں ۵۲ که مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا ۔ سو ان سکوں سے ثابت ہے کہ اُس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی ۔ اسی طرح قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا یعنی اے عیسی میں ان الزاموں سے تجھے بری کروں گا اور تیرا پاکدامن ہونا ثابت کر دوں گا اور ان تہمتوں کو دور کر دوں گا جو تیرے پر یہود اور نصاری نے لگائیں۔ یہ ایک بڑی پیشگوئی تھی اور اس کا ماحصل یہی ہے کہ یہود نے یہ تہمت لگائی تھی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح مصلوب ہو کر ملعون ہو کر خدا کی محبت ان کے دل میں سے جاتی رہی اور جیسا کہ لعنت کے مفہوم کے لئے شرط ہے ان کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزار ہو گیا اور تاریکی کے بے انتہا طوفان میں پڑ گیا اور بدیوں سے محبت کرنے لگا اور کل نیکیوں کا مخالف ہو گیا اور خدا سے تعلق توڑ کر شیطان کی بادشاہت کے ماتحت ہو گیا اور اس میں اور خدا میں حقیقی دشمنی پیدا ہوگئی۔ اور یہی تہمت ملعون ہونے کی نصاری نے بھی لگائی تھی مگر نصاری نے اپنی نادانی سے دوضروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک طرف تو حضرت مسیح کو خدا کا فرزند قرار دیا اور دوسری طرف ملعون بھی قرار دیا ہے اور خود مانتے ہیں کہ ملعون تاریکی اور شیطان کا فرزند ہوتا ہے یا خود شیطان ہوتا ہے سو حضرت مسیح پر یہ سخت نا پاک تہمتیں لگائی گئی تھیں ۔ اور مُطَهَّرُكَ “ کی پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کرے گا ۔ اور یہی وہ زمانہ ہے۔ اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تطہیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عقلمندوں کی نظروں میں بخوبی ہوگئی کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر لگائے گئے تھے۔ لیکن یہ گواہی عوام کی نظر میں نظری اور باریک تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے انصاف نے وَجَعَلَنِي مُبْرَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ آل عمران : ۵۶ مریم: ۳۲