مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 53

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۳ مسیح ہندوستان میں في الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی ۵۱۶ زندگی میں وجاہت یعنی عزت اور مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی ۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرو دوس اور پلا طوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔ اور یہ خیال کہ دنیا میں پھر آ کر عزت اور بزرگی پائیں گے۔ یہ ایک بے اصل وہم ہے جو نہ صرف خدائے تعالیٰ کی کتابوں کے منشاء کے مخالف بلکہ اس کے قدیم قانونِ قدرت سے بھی مغائر اور مبائن اور پھر ایک بے ثبوت امر ہے مگر واقعی اور کچی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس بد بخت قوم کے ہاتھ سے نجات پا کر جب ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے فخر بخشا۔ تو اس ملک میں خدائے تعالیٰ نے ان کو بہت عزت دی اور بنی اسرائیل کی وہ دس تو میں جو گم تھیں اس جگہ آکر ان کومل گئیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس ملک میں آکر اکثر ان میں سے بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے اور بعض ذلیل قسم کی بت پرستی میں پھنس گئے تھے۔ سو اکثر ان کے حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے سے راہ راست پر آگئے ۔ اور چونکہ حضرت مسیح کی دعوت میں آنے والے نبی کے قبول کرنے کے لئے وصیت تھی اس لئے وہ دس فرقے جو اس ملک میں آکر افغان اور کشمیری کہلائے ۔ آخر کا رسب کے سب مسلمان ہو گئے ۔ غرض اس ملک میں حضرت مسیح کو بڑی وجاہت پیدا ہوئی۔ اور حال میں ایک سکہ ملا ہے جو اسی ملک پنجاب میں سے برآمد ہوا ہے اس پر حضرت عیسی علیہ السلام کا نام پالی تحریر میں درج ہے اور اُسی زمانہ کا سکہ ہے جو حضرت مسیح کا زمانہ تھا۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی۔ اور غالبا یہ سکہ ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہے جو حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔ ایک اور سکہ برآمد ہوا ہے اس پر ایک اسرائیلی مرد کی تصویر ہے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت مسیح کی تصویر ہے۔ قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے آل عمران: ۴۶