مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxi of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxxi

17 ’’ایک نُور آسمان سے گرا اور وہ قادیان پر نازل ہوا اور میری اولاد اس سے محروم رہ گئی۔‘‘ (تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۵۶۵) اور انہیں مقابلہ کے لئے دعوت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔’’اگر آیت فلمّا توفّیتنی کے معنے بجُز مارنے اور ہلاک کرنے کے کسی حدیث سے کچھ اَور ثابت کر سکو یا کسی آیت یا حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسم عنصری آسمان پر چڑھنا یا مع جسم عنصری آسمان سے اُترنا ثابت کر سکو یا اگر اخبار غیبیہ میں جو خدا تعالیٰ سے مجھ پر ظاہر ہوتی ہیں میرا مقابلہ کر سکو یا استجابتِ دعا میں میرا مقابلہ کر سکو یا تحریر زبان عربی میں میرا مقابلہ کر سکو یا اَور آسمانی نشانوں میں جو مجھے عطا ہوئے ہیں، میرا مقابلہ کر سکو تو میں جھوٹا ہوں۔آپ لوگ تو ان سوالات کے وقت مُردہ کی طرح ہو گئے۔یہی وجہ تو ہے کہ آپ لوگوں کو چھوڑ کر ہزار ہا نیک مرد اور عالم فاضل اس جماعت میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔‘‘ (تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۵۴۳) یہ رسالہ لکھا تو ۱۹۰۰ء ؁میں گیا تھا مگر اس کی اشاعت ۳؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ہوئی۔روئداد جلسہ دُعاء ۲؍ فروری ۱۹۰۰ء کو عید الفطر کے روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک پر سرکار برطانیہ کی کامیابی کے لئے دُعا کے واسطے ایک عام جلسہ منعقد ہوا۔جس میں قادیان اور قریبی دیہات کے علاوہ افغانستان، عراق، مدراس، کشمیر اور ہندوستان کے مختلف اضلاع کے باشندے ایک ہزار کی تعداد میں حاضر ہوئے۔قادیان کے غربی جانب قدیمی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کی گئی۔حضرت مولوی نور الدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عید الفطر کی نماز پڑھائی۔اور نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نہایت لطیف اور مؤثر خطبہ پڑھا۔جس میں سورۃ ’’النّاس‘‘ کی لطیف اور پُر از نکات و معارف تفسیر بیان کرتے ہوئے حکّام مجازی کے حقوق کا ذکر فرمایا اور گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کی وجہ سے اس کی وفاداری کے لئے تلقین فرمائی اور خطبہ عید کے بعد