مسیح ہندوستان میں — Page 119
روحانی خزائن جلد ۱۵ 119 ستاره قیصره سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ بپا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لئے دنیا پر ایک آخری حکم ہے جس کے رو سے مسیح موعود حکم کہلاتا ہے اس لئے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا اس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا گیا تا قاضی کے لفظ سے خدا کے اُس آخری حکم کی طرف اشارہ ہو جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی ہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حکم ہے۔ اس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ماجھی اُس وقت اس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اس ملک ماجھے کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفته رفته به حکومت خود مختار ریاست بن گئی اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیاں ہو گیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پر معنی نام ہیں جو ایک ان میں سے روحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا روحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے۔اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اُٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بناویں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں ۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر