مسیح ہندوستان میں — Page 118
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۱۸ ستاره قیصره میں پیدا ہو کر اپنی کمال ہمت اور ہمدردی بنی نوع کے رو سے طبعاً ایک آسمانی منجی کو چاہتا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوا کیونکہ اس وقت کا قیصر روم ایک نیک نیت انسان تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ زمین پر ظلم ہو اور انسانوں کی بھلائی اور نجات کا طالب تھا تب آسمان کے خدا نے وہ روشنی بخشنے والا چاند ناصرہ کی زمین سے چڑھایا یعنی عیسی مسیح تا جیسا کہ ناصرہ کے لفظ کے معنے عبرانی میں طراوت اور تا زگی اور سرسبزی ہے یہی حالت انسانوں کے دلوں میں پیدا کرے۔ سواے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیرگاه تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی اس قیصر روم سے کم نہیں ہے بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ تیری نظر کے نیچے جس قدر غریب رعایا ہے جس کی تو اے معظمہ قیصرہ ہمدردی کرنا چاہتی ہے اور جس طرح تو ہر ایک پہلو سے اپنی عاجز رعیت کی خیر خواہ ہے اور جس طرح تو نے اپنی خیر خواہی اور رعیت پروری کے نمونے دکھلائے ہیں۔ یہ کمالات اور برکات گذشتہ قیصروں میں سے کسی میں بھی نہیں پائے جاتے اس لئے تیرے ہاتھ کے کام جو سراسر نیکی اور فیاضی سے رنگین ہیں سب سے زیادہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹاوے سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے ۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا تا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے