مجموعہ آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 615

مجموعہ آمین — Page 496

روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۹۶ مجموعه آمین عیاں کر ان کی پیشانی پر اقبال نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال بچانا ان کو ہر غم سے بہر حال نہ ہوں وہ دکھ میں اور رنجوں میں پامال یہی امید ہے دل نے بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي دعا کرتا ہوں اے میرے یگانہ نہ آوے ان رنجوں کا زمانہ آستانه مرے مولیٰ! انہیں ہر دم بچانا نہ چھوڑیں ترا وہ امید ہے اے میرے ہادی دیکھیں وہ فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي بے کسی کا مصیبت کا ، الم کا ، بے بسی کا زمانہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا بشارت تو نے پہلے سے سنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْاعَادِي ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے نہ یہ ہم سے کہ احسان خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے کہ یہ حاصل ہو جو شرط لقا ہے یہی آئینہ خالق ہر اک نیکی کی جڑ اتقا نہ دل اگر یہ جڑ رہی سب یہی اک جوہر سیف دعا ہے کچھ رہا ہے مصرع الهامی یہی اک فخر شان اولیاء بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ az وہ بینا خدا ہے مجھے تقویٰ سے اُس نے جزا دی اگر سوچو یہی دار الجزاء ہے گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الأَعَادِي