لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 239

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۱ لیکچر سیالکوٹ تبدیلی پیدا نہیں کریں گے تب تک اُمید نہیں کہ یہ مرض اس ملک سے دور ہو سکے ۔ غرض یہ سرزمین نوح کے زمانہ کی سرزمین سے بہت مشابہ ہے کہ آسمان کے نشانوں کو دیکھ کر تو کوئی ایمان نہ لایا اور عذاب کے نشان کو دیکھ کر ہزاروں بیعت میں داخل ہوئے اور پہلے نبیوں نے بھی اس نشان طاعون کا ذکر کیا ہے ۔ انجیل میں بھی مسیح موعود کے وقت میں مری پڑنے کا ذکر ہے اور لڑائیوں کا بھی ذکر ہے جو اب ہو رہی ہیں۔ پس اے مسلمانوں ! تو بہ کرو۔ تم دیکھتے ہو کہ ہر سال تمہارے عزیزوں کو یہ طاعون (۵۰) تم سے جدا کر رہی ہے ۔ خدا کی طرف جھکوتا وہ بھی تمہاری طرف جھکے اور ابھی معلوم نہیں کہ کہاں تک طاعون کا دور ہے اور کیا ہونے والا ہے۔ میرے دعوے کی نسبت اگر شبہ ہو اور حق جوئی بھی ہو تو اس شبہ کا دُور ہونا بہت سہل ہے کیونکہ ہر ایک نبی کی سچائی تین طریقوں سے پہچانی جاتی ہے۔ اول عقل سے یعنی دیکھنا چاہیے کہ جس وقت وہ نبی یا رسول آیا ہے عقل سلیم گواہی دیتی ہے یا نہیں کہ اس وقت اُس کے آنے کی ضرورت بھی تھی یا نہیں اور انسانوں کی حالت موجودہ چاہتی تھی یا نہیں کہ ایسے وقت میں کوئی مصلح پیدا ہو؟ دوسرے پہلے نبیوں کی پیشگوئی یعنی دیکھنا چاہیے کہ پہلے کسی نبی نے اُس کے حق میں یا اُس کے زمانہ میں کسی کے ظاہر ہونے کی پیشگوئی کی ہے یا نہیں؟ تیسرے نصرت الہی اور تائید آسمانی یعنی دیکھنا چاہیے کہ اس کے شامل حال کوئی تائید آسمانی بھی ہے یا نہیں؟ یہ تین علامتیں بچے مامور من اللہ کی شناخت کے لئے قدیم سے مقرر ہیں ۔اب اے دوستو! خدا نے تم پر رحم کر کے یہ تینوں علامتیں میری تصدیق کے لئے ایک ہی جگہ جمع کر دی ہیں۔ اب چاہو تم قبول کر دیا نہ کرو ۔ اگر عقل کی رو سے نظر کرو تو عقل سلیم فریاد کر رہی ہے اور رو رہی ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت ایک آسمانی مصلح کی ضرورت ہے