لیکچر لدھیانہ — Page 238
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۰ لیکچر سیالکوٹ عذاب نہ تھی بلکہ رحمت الہی نے قبل از وقت ایک نشان دیا تھا لیکن لوگوں نے اس نشان سے کچھ بھی فائدہ نہ اُٹھایا اور کچھ بھی ان کے دلوں کو میری طرف توجہ نہ ہوئی گویا وہ نشان ہی نہیں تھا ایک لغو پیشگوئی تھی جو کی گئی۔ پھر بعد اس کے جب منکروں کی شوخی حد سے بڑھ گئی تو خدا نے ایک عذاب کا نشان زمین پر دکھلایا جیسا کہ ابتدا سے نبیوں کی کتابوں میں لکھا گیا تھا اور وہ عذاب کا نشان طاعون ہے جو چند سال سے اس ملک کو کھا رہی ہے اور کوئی انسانی تدبیر اس کے آگے چل نہیں سکتی ۔ اس طاعون کی خبر قرآن شریف میں صریح لفظوں میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وان مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيد الے یعنی قیامت سے کچھ دن پہلے بہت سخت مری پڑے گی اور اس سے بعض (۴۹) دیہات تو بالکل نابود ہو جاویں گے اور بعض ایک حد تک عذاب اُٹھا کر بیچ رہیں گے اور ایسا ہی ایک دوسری آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب قرب قیامت ہوگا ہم زمین میں سے ایک کیڑا نکالیں گے جولوگوں کو کاٹے گا۔ اس لئے کہ انہوں نے ہمارے نشانوں کو قبول نہیں کیا۔ یہ دونوں آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں اور یہ صریح طور پر طاعون کی نسبت پیشگوئی ہے کیونکہ طاعون بھی ایک کیڑا ہے اگر چہ پہلے طبیبوں نے اس کیڑے پر اطلاع نہیں پائی لیکن خدا جو عالم الغیب ہے وہ جانتا تھا کہ طاعون کی جڑھ اصل میں کیڑا ہی ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے اس لئے اس کا نام اُس نے دابة الارض رکھا یعنی زمین کا کیڑا ۔ غرض جب نشان عذاب ظاہر ہوا اور ہزاروں جانیں پنجاب میں تلف ہوگئیں اور اس ملک میں ایک ہولناک زلزلہ پڑا تب بعض لوگوں کو ہوش آئی اور چند عرصہ میں دو لاکھ کے قریب لوگوں نے بیعت کر لی اور ابھی زور سے بیعت ہو رہی ہے کیونکہ طاعون نے بھی ابھی اپنا حملہ نہیں چھوڑا اور چونکہ وہ بطور نشان کے ہے اس لئے جب تک اکثر لوگ اپنے اندر کچھ ا بنی اسراءیل: ۵۹