لیکچر لاہور — Page 201
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۹ 69 لیکھر لاہور مجھ سے ایک صاحب حکیم مرزا محمود ایرانی نام نے آج ۲ ستمبر ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ایک مخط کے دریافت کیا ہے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں ۔ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ ۔ پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کو مشخص کرتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرآن عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہو گا اس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دو صدیوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ میرا وجود اسی طرح پر ہے۔ میرے وجود نے مشہور و معروف صدیوں میں خواہ ہجری میں خواہ مسیحی خواہ بکرماجیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دوصدیوں پر مشتمل ہے صرف کسی ایک صدی تک میری پیدائش اور ظہور ختم نہیں ہوئے۔ غرض جہاں تک مجھے علم ہے میری پیدائش اور میرا ظہور ہر ایک مذہب کی صدی میں صرف ایک صدی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوصدیوں میں اپنا قدم رکھتا ہے۔ پس ان معنوں سے میں ذوالقرنین ہوں ۔ چنانچہ بعض احادیث میں بھی مسیح موعود کا نام ذوالقرنین آیا ہے۔ ان حدیثوں میں بھی ذوالقرنین کے یہی معنے ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں۔ اب باقی آیت کے معنے پیشگوئی کے لحاظ سے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قو میں بڑی ہیں جن کو مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے اور مسیحی دعوت کے لئے پہلے انہیں کا حق ٹھہرایا گیا ہے۔ سوخدا تعالیٰ ایک استعارے کے رنگ میں اس جگہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود جو ذ والقر نین ہے اپنی سیر میں دو قوموں کو پائے گا۔ ایک قوم کو دیکھے گا کہ وہ تاریکی میں ایک ایسے بد بودار چشمے پر بیٹھی ہے کہ جس کا پانی پینے کے لائق نہیں اور اس میں سخت بدبودار کیچڑ ہے اور اس قدر ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہہ سکتے ۔ یہ عیسائی قوم ہے جو تاریکی میں ہے جنہوں نے مسیحی چشمہ کو اپنی غلطیوں سے بد بودار کیچڑ میں ملا دیا ہے۔ دوسری سیر میں مسیح موعود نے جو ذوالقرنین ہے ان لوگوں کو دیکھا جو آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور آفتاب کی دھوپ اور اُن میں کوئی اوٹ نہیں۔ اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ اس سے بدن اُن کے جل رہے ہیں اور اوپر کی جلد سیاہ ہو گئی ہے۔ اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجز جلنے کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا۔ یعنی اُن کو تو حید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے (۵۴) کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی یعنی دینداری کی سچی خوبصورتی اور سچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصب اور کینہ اور اشتعال طبع اور درندگی کے چلن ان کے حصہ میں آگئے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ الكهف : ۸۷