لیکچر لاہور — Page 200
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۸ لیکھر لاہور مشتمل ہو اس کا ماحصل صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ نے کسی شخص کی نسبت عذاب دینے کا ارادہ فرمایا ہے جس ارادہ کو کسی نبی پر اُس نے ظاہر بھی کر دیا ہے۔ پس کیا وجہ کہ وہ ارادہ اُس حالت میں تو صدقہ خیرات اور دعا سے مل سکتا ہے کہ جب کسی نبی پر ظاہر نہ کیا گیا لیکن جب ظاہر کیا گیا ہو تو پھر ٹل نہیں سکتا۔ یہ خیال سراسر بیوقوفی ہے۔ اور اس میں تمام انبیاء کی مخالفت ہے ماسوا اس کے بعض پیشگوئیاں مجمل بھی ہوتی ہیں اور بعض متشابہ ہوتی ہیں جو بعد میں اُن کی حقیقت کھلتی ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ بعض وقت کسی پیشگوئی کے معنے کرنے میں ایک نبی کا اجتہاد بھی خطا ہو سکتا ہے جس سے کچھ ضرر نہیں۔ نبی کے ساتھ بھی بشریت ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بارہ حواری بہشت میں بارہ تختوں پر بیٹھیں گے مگر یہ بات صحیح نہ ہوئی بلکہ ایک حواری مرتد ہو کر جہنم کے لائق ہو گیا ۔ اور آپ نے فرمایا تھا کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے کہ میں دوبارہ آ جاؤں گا۔ یہ بات بھی صحیح نہ نکلی اور کئی اور پیشگوئیاں حضرت عیسی علیہ السلام کی باعث اجتہادی غلطی کے پوری نہیں ہو سکیں ۔ غرض یہ اجتہادی غلطیاں تھیں اور میری پیشگوئیوں کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی صبر اور صدق سے سننے والا ہو تو ایک لاکھ سے بھی زیادہ پیشگوئیاں اور نشان میری تائید میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ پس سخت کمینگی ہے کہ ہزاروں پیشگوئیوں سے جو پوری ہو چکیں کچھ فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اگر ایک سمجھ نہ آسکے تو اُس کو نشانہ اعتراض کا بنادیا جائے اور شور ڈال دیا جائے اور اسی پر تمام فیصلہ کر دیا جائے۔ میں امید رکھتا ہوں اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص چالیس روز بھی میرے پاس رہے تو کوئی نشان دیکھ لے گا۔ اب میں ختم کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اس قدر طالب حق کے لئے بس ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى من اتبع الهُدَى الراقم میرزا غلام احمد قادیانی