لیکچر لاہور — Page 194
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۲ لیکچر لاہور تیرے پاس آئیں گے اور اس قدر کثرت سے آئیں گے کہ قریب ہے کہ تو اُن سے تھک جائے یا بداخلاقی کرے مگر تو ایسا نہ کر ۔ (۲) دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ ان لوگوں سے بہت سی مالی مدد ملے گی۔ ان پیشگوئیوں کے بارہ میں ایک دنیا گواہ ہے کہ جب یہ پیشگوئیاں براہین احمدیہ میں لکھی گئیں تب میں ایک تنہا آدمی گمنامی کی حالت میں قادیان میں جو ایک ویران گاؤں ہے پڑا تھا مگر بعد اس کے ابھی دس برس گزرنے نہیں پائے تھے کہ خدا تعالیٰ کے الہام کے موافق لوگوں کا رجوع ہو گیا۔ اور اپنے مالوں کے ذریعہ سے لوگ مدد بھی کرنے لگے یہاں تک کہ اب دو لاکھ سے زیادہ ایسے انسان ہیں جو میری بیعت میں داخل ہیں اور انہیں الہامات میں ایک تیسری پیشگوئی یہ ہے کہ لوگ کوشش کریں گے کہ اس سلسلہ کو معدوم کر دیں اور اس نور کو بجھا دیں مگر وہ اس کوشش میں نامرادر ہیں گے۔ اب اگر کوئی شخص صریح بے ایمانی اختیار کرے تو اس کو کون روک سکتا ہے ورنہ یہ تینوں پیشگوئیاں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے زمانے میں جبکہ ایک شخص گمنامی کی حالت میں پڑا ہے اور تنہا اور بے کس ہے اور کوئی ایسی علامت موجود نہیں ہے کہ وہ لاکھوں انسانوں کا سردار بنایا جائے اور نہ کوئی یہ علامت موجود ہے کہ لوگ ہزار ہا روپے اس کی خدمت میں پیش کریں۔ پھر ایسی حالت میں (۲۷) ایسے شخص کی نسبت اس قدرا قبال اور نصرت الہی کی پیشگوئی اگر صرف عقل اور انکل کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے تو منکر کو چاہیے کہ نام لے کر اس کی نظیر پیش کرے بالخصوص جبکہ ان دونوں پیشگوئیوں کو اس تیسری پیشگوئی کے ساتھ ہی رکھا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بہت کوشش کریں گے کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہ ہوں لیکن خدا پوری کرے گا تو بالضرورت ان تینوں پیشگوئیوں کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے ماننا پڑے گا کہ یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ انسان تو یہ بھی دعوی نہیں کر سکتا کہ اتنی مدت تک زندہ بھی رہ سکے۔ پھر چوتھی پیشگوئی ان الہامات میں یہ ہے کہ ان دنوں میں اس سلسلہ کے دومرید شہید کئے جائیں گے۔ چنانچہ شیخ عبدالرحمن