لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 597

لیکچر لاہور — Page 179

روحانی ختنه ائن جلد ۲۰ ۱۷۷ لیکچر لاہور اسی قانون قدرت کے رُو سے گناہوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ چنانچہ بباعث سخت دلی ۳۱۶ اور غفلت کے موجودہ حالت اس ملک کی نہایت خطرناک ہو گئی ہے۔ جاہل اور شریر لوگ جو وحشیوں کی طرح ہیں وہ قابل شرم جرائم مثلاً نقب زنی اور زنا کاری اور قتل ناحق وغیرہ سنگین جرائم کے ارتکاب میں مشغول ہیں۔ اور دوسرے لوگ اپنی اپنی طبیعت اور جوش نفس کے موافق طرح طرح کے دوسرے گناہوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ چنانچہ شراب خانے دوسری دوکانوں سے زیادہ آباد معلوم ہوتے ہیں۔ اور دوسرے فسق و فجور کے پیشے بھی دن بدن ترقی میں ہیں۔ عبادت خانے محض رسم ادا کرنے کے لئے ٹھہر گئے ہیں ۔ غرض زمین پر گناہوں کا ایک سخت خطر ناک جوش ہے اور اکثر لوگوں کے نفسانی شہوات بوجہ پورے امن اور کامل آسائش کے اس قدر جوش میں آگئے ہیں کہ جیسے جب ایک پر زور دریا کا بند ٹوٹ جائے تو وہ ایک رات میں ہی ارد گرد کے تمام دیہات کو تباہ کر دیتا ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ دنیا میں ایک نہایت درجہ پر تاریکی پیدا ہوگئی ہے اور ایسا وقت آگیا ہے کہ یا تو خدا دنیا میں کوئی روشنی پیدا کرے اور یا دنیا کو ہلاک کر دیوے مگر ابھی اس دنیا کے ہلاک ہونے میں ایک ہزار برس باقی ہے اور دنیا کی زینت اور آرام اور آسائش کے لئے جونئی نئی صنعتیں زمین پر پیدا ہوئی ہیں۔ یہ تغیر بھی صاف طور پر دلالت کر رہا ہے کہ جیسے خدا تعالیٰ نے جسمانی طور پر اصلاح فرمائی ہے وہ روحانی طور پر بھی بنی نوع کی اصلاح اور ترقی چاہتا ہے کیونکہ روحانی حالت انسانوں کی جسمانی حالت سے زیادہ گر گئی ہے اور ایسی خطرناک منزل پر آ پہنچی ہے کہ جہاں نوع انسان غضب الہی کا نشانہ بن سکتی ہے۔ ہر ایک گناہ کا جوش نہایت ترقی پر پایا جاتا ہے اور روحانی طاقتیں نہایت کمزور ہوگئی ہیں اور ایمانی انوار بجھ گئے ہیں اور اب عقل سلیم بہداہت اس بات کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ اس تاریکی کے غلبہ پر آسمان سے کوئی روشنی پیدا ہونی چاہیے کیونکہ جیسے جسمانی طور پر