لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 597

لیکچر لاہور — Page 178

روحانی خزائن جلد ۲۰ 124 لیکچر لاہور ۳۰ خاندان میں دستیاب ہو سکتی ہوں گی۔ بعد اس کے گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ آیا۔ یہ زمانہ نہایت پر امن ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم خالصہ قوم کی عملداری کے دنوں کو امن عامہ اور آسائش کے لحاظ سے انگریزی عملداری کی راتوں سے بھی برابر قرار دیں تو یہ بھی ایک ظلم اور خلاف واقعہ ہوگا۔ یہ زمانہ روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ ہے۔ اور آنے والی برکتیں اس کی ابتدائی بہار سے ظاہر ہیں۔ ہاں یہ زمانہ ایک عجیب جانور کی طرح کئی منہ رکھتا ہے۔ بعض منہ تو حقیقی خدا شناسی اور راستبازی کے برخلاف ہونے کی وجہ سے خوفناک ہیں اور بعض منہ بہت بابرکت اور راستبازی کے مؤید ہیں مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ انگریزی حکومت نے انواع و اقسام کے علوم کو اس ملک میں بہت ترقی دی ہے۔ اور کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے کے لئے ایسے سہل اور آسان طریق نکل آئے ہیں کہ زمانہ گذشتہ میں اُن کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ اور جو ہزار ہا مخفی کتب خانے اس ملک میں تھے وہ بھی ظاہر ہو گئے اور تھوڑے ہی دنوں میں علمی رنگ میں زمانہ ایسا بدل گیا کہ گویا ایک نئی قوم پیدا ہو گئی ۔ یہ سب کچھ ہوا مگر عملی حالتیں دن بدن کا لعدم ہوتی گئیں اور اندر ہی اندر دہریت کا پودا بڑھنے لگا۔ گورنمنٹ انگریزی کے احسان میں کچھ شک نہیں۔ اس قدر اپنی رعایا کو احسان پہنچایا اور معدلت گستری کی اور جابجا امن قائم کیا کہ اس کی نظیر دوسری گورنمنٹوں میں تلاش کرنا عبث ہے مگر وہ آزادی جو امن کا دائرہ پورا وسیع کرنے کے لئے رعایا کو دی گئی وہ اکثر لوگوں کو ہضم نہیں ہو سکی اور اس کے عوض میں جو خدا اور اس گورنمنٹ کا شکر بجالانا چاہیے تھا بجائے اس شکر کے اکثر دلوں میں اس قدر غفلت اور دنیا پرستی اور دنیا طلبی اور لاپرواہی بڑھ گئی کہ گویا یہ سمجھا گیا کہ دنیا ہی ہمارے لئے ہمیشہ رہنے کا مقام ہے اور گویا کہ ہم پر کسی کا بھی احسان نہیں اور نہ کسی کی حکومت ہے اور جیسا کہ دستور ہے کہ اکثر گناہ امن کی حالت میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔