کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 630

کتاب البریہ — Page 340

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۴۰ ہیں اور اس ارادہ اور قصد کی اول وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے ۔ جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل ملاؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔ سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریا کاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت ان کی محسن ہے کچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے اور وفاداری کے ساتھ اس کی شکر گزاری کرنی چاہیے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہ گار ہو گے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے۔ اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔ اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزار ہاروپیہ خرچ کیا گیا مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اور در حقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی۔ اس لئے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بارا ظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صد ہادیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی