کتاب البریہ — Page 339
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۳۹ کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔ المرقوم ۲۹ جون ۱۸۷۶ء۔ اسی طرح اور بعض چٹھیات انگریزی اعلیٰ افسروں کی ہیں جن کو کئی مرتبہ شائع کر چکا ہوں چنانچہ ولسن صاحب کمشنر لاہور کی چٹھی مرقومہ ارجون ۱۸۴۹ء میں میرے والد صاحب کو یہ لکھا ہے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بلاشک آپ اور آپ کا خاندان ابتداء دخل اور حکومت سرکار انگریزی سے جان نثار اور وفا کیش اور ثابت قدم رہے ہیں۔ اور آپ کے حقوق واقعی قابل قدر ہیں اور آپ بہر نج تسلی رکھیں کہ سرکار انگریزی آپ کے حقوق اور آپ کے خاندانی خدمات کو ہرگز فراموش نہیں کرے گی اور مناسب موقعوں پر آپ کے حقوق اور خدمات پر غور اور توجہ کی جائے گی۔ اور سر لیپل گرفن صاحب نے اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہمارے خاندان کا ذکر کر کے میرے بھائی مرزا غلام قادر کی خدمات کا خاص کر کے ذکر کیا ہے جو اُن سے جمو کے پل پر باغیوں کی سرزنش کے لئے ظہور میں آئیں۔ ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور میرا خاندان ابتدا سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔ اور اس بات کے یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اُن کرسی نشین رئیسوں میں سے تھے کہ جو ہمیشہ گورنری دربار میں عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے اور تمام زندگی ان کی گورنمنٹ عالیہ کی خیر خواہی میں بسر ہوئی۔ (۲) دوسرا امر قابل گذارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول رہا ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے