کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 630

کتاب البریہ — Page 298

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۸ اس کی خونی آنکھ کی طرف توجہ دلائی تھی یہ ممکن ہے کہ اس نے اور وارث الدین اور پر یمد اس نے فی الحقیقت ایسا یقین کر لیا ہو کہ نو جوان قتل کرنے کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے اس امر کو تسلیم کرانے میں ان کو خیال آیا ہو کہ وہ زبر دستی صداقت کو نکال رہے ہیں بعد ازاں اپنی غلطی پا کر انہوں نے اس جھوٹے قصہ کو اور تفصیلات سے ارادہ کر لیا ہے کہ اس معاملہ کو برابر چلائیں گے در باب ان ترغیبات کے جو ڈاکٹر کلارک کی موجودگی میں ہوئیں جن کی نسبت وہ بیان کرتا ہے کہ نہیں ہوسکتی ہیں ی ممکن ہے کہ وہ اس وقت وقوع میں آئے ہوں جبکہ اس کی توجہ اور طرف مصروف تھی وہ غالبا نو جوان کی نگرانی غور سے کر رہا تھا جس کو ارد گرد سے عبدالرحیم وارث دین اور پر یمد اس گھیرے ہوئے تھے۔ اور ان تینوں میں سے میرا خیال ہے کوئی نہ کوئی عبدالحمید کے کانوں میں پھونک دیتا تھا اور اس کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ خواہ کچھ ہی حقیقت ہو ہمیں بالکل یقین ہے کہ اگر عبد الحمید کو فی الحقیقت عبدالرحیم نے اپنے پہلے بیان کے کرنے میں ورغلایا۔ ڈاکٹر کلارک کو دوران کارروائی میں کامل طور سے دھوکا دیا گیا ہے اور اسے ان کی ان مصنوعی کارروائی سے بالکل اطلاع نہیں ہے ۔ یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ مرزا غلام احمد نے اس امر کو کشادہ پیشانی سے مان لیا ہے اور عدالت میں ڈاکٹر کلارک کو ہر ایک قسم کی شمولیت سے متر اقرار دیا ہے۔ شہادت میں بہت سی تحریری شہادت پیش کی ۲۲۰ گئی ہے جس میں سے کسی قدر متعلق سمجھی جاتی اگر اصل بیان جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ثابت ہو جاتا ۔ مرزا غلام احمد زور سے اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اس نے کبھی ڈاکٹر کلارک کے ضرر دہی کے لئے صریحا یا کنا یا کبھی کوئی پیشگوئی کی ہو وہ اسے ۱۸۹۳ء کی پیشگوئی میں جو مباحثہ پیشگوئیاں ظہور میں آرہی ہیں اور خوارق لوگوں کو حیرت میں ڈال رہے ہیں ۔ پس کیا ہی وہ انسان اشیه نیک قسمت ہے کہ اب ان انوار اور برکات سے فائدہ اٹھائے اور ٹھوکر نہ کھائے !!! اور وہ حوادث ارضی اور سماوی جو مسیح موعود کے ظہور کی علامات ہیں وہ سب ۔ میرے وقت میں ظہور پذیر ہوگئی ہیں ۔ مدت ہوئی کہ خسوف کسوف رمضان کے مہینے میں ہو چکا ہے اور ستارہ ذوالسین بھی نکل چکا اور زلزلے بھی آئے اور مری بھی پڑی اور عیسائی