کتاب البریہ — Page 297
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۷ نورالدین عیسائی امریکن مشن کو کہا تھا کہ وہ قادیان سے آیا ہے اور کہ وہ فی الاصل ہندو تھا اور ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا یہ بیان کرنا نہ تو مرزا صاحب کی سازش سے ہے اور نہ یکھرام کے قاتل کے فعل سے مشابہت کیلئے ہے بلکہ بقول اس کے بیان کے اس واسطے ہے کہ مشنریوں سے اس امر واقعہ کو پوشیدہ رکھے کہ وہ گجرات مشن سے نکالا گیا تھا اس وجہ سے اس نے عبدالحمید کی بجائے جھوٹا نام عبدالمجید بیان کیا (۶) اگر عبدالحمید کا بیان جو ہم مقام بیاس اس نے کیا ہے سچا ہوتا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں اس نے بعد تسلیم کر لینے اس ضروری امر کے کہ وہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مارنے کے لئے آیا ہے تفصیلات کے بیان کرنے سے رکا رہا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ بہت سی تفصیلات اس وقت ظاہر ہوئیں جبکہ وہ نوجوان وارث الدین اور پریمد اس اور عبدالرحیم کی حفاظت میں بٹالہ تھا ۔ لہذا ہماری یہ رائے ہے کہ عبدالرحیم اور وارث الدین اور پر یمد اس ہی صرف اس پہلی کہانی کے جوابدہ ہیں اور غالباً وہی اس کو تمام وقت ورغلاتے رہے۔ یہ تو طبعی امر (۲۵۹) ہے کہ اس نوجوان کے آنے پر مشن کے کبوتر خانہ میں بہت چرچا ہوا ہوگا خصوصاً جبکہ اس نے بیان کیا کہ وہ کسی اور جگہ سے نہیں بلکہ قادیاں ہی سے آیا ہے اور عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ اس کی شکل و شباہت بعض عیسائی ماتحت ملازموں کے پاس اس کی سفارش نہ کر سکی اور اس نے کہہ دیا کہ وہ ہندو تھا ایساہی لیکھرام کے قاتل نے کیا تھا انہوں نے دونوں کو اکٹھے کر لیا اور یہ یقینی بات ہے کہ عبدالرحیم سے اکثر اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس کے آنے کے کیا وجوہ ہیں۔ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ عبدالرحیم کو خود اپنی جان کا خطرہ پڑ گیا تھا۔ یہ یادر ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اول ہی اول ڈاکٹر کلارک کو کہا تھا کہ نوجوان قاتلانہ ارادہ سے آیا ہے اور جس نے بقیه حاشیه نشانوں کا ظاہر ہونا ہے ۔ چنانچہ اب تک جو نشان ظاہر ہو چکے ہیں وہ اس کثرت سے ہیں جن کے قبول کرنے سے کسی منصف کو گریز کی جگہ نہیں ۔ ایک وہ زمانہ تھا جو نادان عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور پیشگوئیوں سے انکار کرتے تھے اور آج وہ زمانہ ہے جو تمام پادری ہمارے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ آسمان سے نشان ظاہر ہور ہے ہیں (۲۵۹)