کتاب البریہ — Page 277
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۷۷ نقل بیان یوسف خان بمقدمه فوجداری اجلاسی مسٹرایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور ۲۴۲ سر کار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزاغلام احمد قادیانی جرم ۰۷ اضابطہ فوجداری (مہر عدالت دستخط حاکم ۲۰ / اگست ۹۷ یوسف خان گواه با قرار صالحه ولد اخوند احمد شاہ خاں ذات افغان عیسائی ساکن گجرات تحصیل مردان عمر نے سال ۔ بیان کیا کہ میں زمینداری کرتا ہوں۔ میں پہلے محمدی تھا۔ سے سال کی عمر تک محمدی رہا۔ میں مرزا صاحب کا مرید ہوا تھا اور محمد سعید کا میں مددگار تھا جو کتب خانہ کے چارج میں تھا۔ بعد محمد سعید کے چلے جانے کے میں انچارج ہوا تھا۔ میں جنڈیالہ میں قبل از مناظرہ ۹۳ء گیا تھا کہ مسلمان لوگ مرزا صاحب کو مباحثہ کے واسطے منتخب کریں ۔ اختتام مباحثہ پر ۵/ جون ۹۳ ء کو مرزا صاحب نے پیشگوئی کی کہ جو حرف A پر درج ہے اور انہوں نے کہا کہ جو فریق ناحق پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔نوٹ ۔ گواہ نے پیشگوئی کو پڑھ کر کہا کہ جو فریق غلطی پر ہے شکست کھائے گا یعنی برباد ہوگا ۔ اس وقت میں نے یہ ہی سمجھا تھا کہ عبداللہ آتھم کے واسطے یہ پیشگوئی ہے ۔ مگر بعد میں مرزا صاحب نے زبانی تشریح کی تھی کہ جو جو شخص فریق مخالف کا ہے ہر ایک کے واسطے یہ پیشگوئی ہے۔ قادیاں آٹھ نوروز بعد اینچ کر دریافت کیا تھا۔ جب ڈاکٹر کلارک صاحب بیمار ہوئے تھے تو مرزا صاحب نہیں ہوا نہ اس رفع کا کچھ ثبوت ہے اور نہ اس کی کچھ ضرورت تھی ۔ ہاں ایک سو بیس برس کے ۲۳۲ کی بعد رفع روحانی ہوا ہے جس کی قرآن شریف نے شہادت دی ہے ۔ مگر صلیب کے دنوں میں رفع روحانی بھی نہیں ہوا بلکہ وہ اس کے بعد ستاسی برس اور زندہ رہے ہیں ۔ ہمارے علماء کی یہ غلطی ہے کہ معاً صلیب کے ساتھ ہی حضرت عیسی کا رفع جسمانی مانتے ہیں حالانکہ دوسری ۱۲۰ طرف یہ اقرار بھی رکھتے ہیں کہ ان کی عمر ایک سو تیس برس کی ہوئی تھی ۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ جبکہ یہود اور نصاریٰ کی تاریخ متواتر سے جس پر یونانی اور رومی کتب تاریخ بھی