کتاب البریہ — Page 269
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۹ جب وکیل بارہ بجے آیا اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم پر ند نہیں ہو کہ اڑ کر امرتسر گئے تھے کوئی اور (۲۳۳) آدمی بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ اور تب عبد الرحیم وغیرہ نے مجھے قطب الدین کی شمولیت کی بابت کہا تھا۔ نوٹ وکیل استغاثہ نے تسلیم کیا کہ ”ہم نے دوسرے آدمی کی شمولیت کی بابت گواہ سے شام کے وقت بھی پوچھا تھا ۔ شام کے وقت پھر وکیل نے پوچھا تھا اور میں نے حسب گفتہ عبدالرحیم وغیرہ قطب الدین کا نام بتلایا تھا۔ وکیل نے مجھے کہا تھا کہ عدالت اس بات کو نہیں مانے گی کہ تو اکیلا مار کر چلا گیا یا چلا جاوے گا۔ کسی اور آدمی کی شمولیت ضرور ہوگی۔ تب بارہ بجے کے بعد حسب سکھلاوٹ قطب الدین کا نام بیان کیا تھا۔ مسجد کے ساتھ ایک کمرہ ہے جس کی بابت میں نے ذکر کیا تھا۔ پہاڑ کی طرف ہے۔ معلوم نہیں اُس کا دروازہ کدھر کو ہے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ قطب الدین کا رنگ وخلیہ کیا ہے۔ اور نہ کسی نے مجھے جتلایا تھا۔ نہ اب تک میں اُس کے حلیہ وغیرہ سے آگاہ یا واقف ہوا ہوں۔ (بسوال عدالت ) پیشی عدالت سے پہلے بارہ بجے دن کے وقت وکیل رام بھیج میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ تم پر ند نہیں ہو کہ مار کر اڑ جاتے ۔ اس کے بعد وارث دین وغیرہ نے مجھے قطب دین کا نام بتلایا اور جب شام کو وکیل نے پھر مجھ سے ذکر کیا تو قطب الدین کا نام میں نے بتلایا تھا اور میری ہتھیلی پر دوسری صلیب کے نتیجہ سے بچالیا جائے ۔ اور وہ روحانی رفع پر موقوف تھا۔ اور روحانی رفع اسی غرض سے تھا کہ تا یہ دکھلایا جائے کہ وہ لعنت کے داغ سے پاک ہے مگر توریت کے منشاء کے موافق (۲۳۳) لعنت کے داغ سے وہ پاک ہو سکتا ہے جس کی روح خدا کی طرف اٹھائی جائے نہ کہ جسم آسمان کی طرف جائے ۔ عیسائی اس بات کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح بقول ان کے صلیبی موت سے اس الزام کے نیچے آگئے تھے کہ وہ لعنتی ہوں اور اس لعنت سے مراد ابدی لعنت تھی ۔ پھر اس عقیدہ کے موافق اول اعتراض تو یہی ہوتا تھا کہ وہ ابدی لعنت یعنی یہ کہ رحمت الہی سے مردود ہو جانا اور خدا کا دشمن ہو جانا اور خدا سے بیزار ہوجانا اور شیطان سیرت ہو جانا