کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 630

کتاب البریہ — Page 268

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۸ كتاب البرية (۲۳۳) جب کپتان صاحب نے مجھ سے اول دریافت کیا تو میں نے وہی حالات بیان کیا جو پہلے لکھوایا تھا۔ صاحب نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو اب تم کو انارکلی میں نہیں بھیجا جاوے گا۔ گورداسپور لے جاویں گے۔ پھر میں نے کہا کہ میں نے بیچ بولا ہے۔ صاحب نے کہا کہ نہیں تم جھوٹ بولتے ہو جب تمہارے شک رفع ہو گئے تھے تو کیوں پھر عیسائیوں کے پاس گئے تھے۔ میں نے کہا تھا کہ نوکری کے واسطے گجرات گیا تھا۔ صاحب نے کہا تھا کہ مرزا صاحب کے تم کو بھیجنے کی بابت جھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ سچ سچ بتلاؤ۔ میں نے خدا کے خوف سے ڈر کر پھر سب حال سچ سچ بتلا دیا جو لکھایا گیا ہے۔ انسپکٹر صاحب اور محمد بخش تھانہ دار اور ایک اور منشی اُس وقت موجود تھے جب کپتان صاحب نے میرا بیان لکھا تھا۔ صاحب سوال کرتے رہے تھے اور میں مسلسل بیان لکھواتا رہا تھا۔ اُسی روز مجھے گورداسپور لے آئے تھے۔ جب اقبال لکھا گیا تھاڈاکٹر صاحب پانچ چار قدم کے فاصلہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عبدالرحیم کہتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب تم کو بچالیں گے اور دھمکی بھی دی گئی تھی کہ تمہاری تصویر ہمارے پاس ہے جہاں جاؤ گے پکڑے جاؤ گے۔ لفظ " مار ڈال کا میرے کان میں عبد الرحیم نے کہا تھا کہ لکھو۔ جس رات لالہ رام بھیج نے مجھ سے پوچھا تھا اُس سے دوسرے دن میری شہادت دوبارہ ہوئی تھی اور پیشی عدالت سے پہلے عبد الرحیم وغیرہ نے قطب الدین وغیرہ کی بابت سکھلایا تھا۔ پہلی دفعہ اسرائیل اور یعقوب وغیرہ نبیوں کی روحیں گئی ہیں ۔ پس اس مقام میں یہ خیال پیش کرنا کہ ۲۳۳ حضرت مسیح معہ جسم آسمان پر چلے گئے ہیں پھر اس سے ان کی خدائی نکالنا یہ ایک ایسا امر ہے جو یہودیوں کے اعتراض سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کے گذرنے کے بعد یہ دعوی که یسوع آسمان پر چلا گیا ہے اس غرض سے کیا گیا تھا کہ تا یہودیوں کے اعتراض لعنت کو دفع کیا جائے اور اس وقت تک عیسائیوں کا یہی خیال تھا کہ خدا کی طرف مسیح کی روح اٹھائی گئی۔ کیونکہ خدا کی طرف روح جاتی ہے نہ کہ جسم اور پھر دوسرے زمانہ میں اصل بات بگڑ کر یہ خیال پیدا ہوا کہ مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا ہے اور وہ خدا ہے ۔ حالانکہ اصل مدعا یہ تھا کہ مسیج کو