کتاب البریہ — Page xxiv
10 اور اس نے اقرار کیا کہ ’’شیخ وارث دین ، بھگت پریم داس اور ایک اَور عیسائی بوڑھا عبدالرحیم مجھے سکھلاتے رہے۔(۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۷۰) چنانچہ حاکم نے بھی اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ’’عبدالرحیم و پریم داس اور وارث الدین بعدازاں مفصل جھوٹی شہادت تیار کرتے رہے جو مجبوراً اُن کے کہنے سے اُسے عدالت میں دینی پڑی۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۹۳) ڈاکٹر کلارک کے زیر اثر پادریوں نے اُسے ایسی ترغیب و ترہیب کی تھی کہ کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اُن کا سکھایا ہوا اپنا تحریری و زبانی دیا ہوا بیان بدل دے گا۔اُس کے فوٹو لئے گئے تھے اور پھر اُسے یہ کہا گیا کہ ’’ڈاکٹر صاحب تم کو بچا لیں گے‘‘ اور دھمکی بھی دی گئی تھی ’’کہ تمہاری تصویر ہمارے پاس ہے جہاں جاؤ گے پکڑے جاؤ گے۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۶۸) اور پادری عبدالغنی نے جیسا کہ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے اپنے بیان میں ظاہر کیا ہے اُس سے یہ کہا تھا کہ ’’پہلے بیان کے مطابق بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاؤ گے۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۷۴) لیکن باوجود اس ترغیب و ترہیب اور تمام احتیاطوں کے جو پادری صاحبوں نے عبدالحمید کو اپنے پہلے جھوٹے بیان پر قائم رکھنے کے لئے اختیار کیں اس کا اصل حقیقت کے اظہار پر قائم رہنا اور تبدیلئ بیان کے نتیجہ میں قید وغیرہ کی سزا سے نہ ڈرنایہ محض خدائی تصرّف کے ماتحت تھا اور اِس طرح پادریوں کا مکر ایسا طشت ازبام ہوا گویا اس کی حقیقت کو اﷲ تعالیٰ نے عریان کر کے دکھا دیا۔اور پادری گرے نے چٹھی کے ذریعہ یہ بیان دیا کہ عبدالحمید پہلے میرے پاس عیسائی ہونے کے لئے آیا تھا۔لیکن چونکہ وہ نکمّا اور مفتری ہے اور سچّا متلاشی معلوم نہ ہوا اس لئے مَیں نے اُسے پادری نور دین