کتاب البریہ — Page 164
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۶۴ کے بعد میں ہی پیش نظر رہا ہوں۔ اور کئی ایک مبہم طریقوں سے یہ پیش گوئی مرزا صاحب کی تصنیفات میں مجھے یاد دلائی گئی ہے۔ جس کے لئے سب سے بڑی وہ کوشش تھی جس کو عبدالحمید نے بیان کیا ہے۔ لاہور میں لیکھرام کی موت کے بعد جس کو تمام لوگ مرزا صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں میرے پاس اس بات کے یقین کرنے کے لئے خاص وجہ تھی۔ ۱۳۲) کہ میری جان لینے کی کوئی نہ کوئی کوشش کی جائے گی ۔ میں تین ماہ کے لئے رخصت پر گیا ہوا تھا۔ میری واپسی پر میرا آنا مرزا صاحب کو فوراً معلوم ہو گیا اور عبدالحمید میرے پاس پہنچ گیا۔ عبدالحمید کے بیان پر یقین کرنے کے لئے میرے پاس کافی وجوہ ہیں اور نیز اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ مرزا صاحب مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں مرزا صاحب کا یہ ایک ہمیشہ کا طریقہ ہے کہ وہ اپنے مخالفوں کی موت کی پیش گوئیاں کرتے ہیں ۔ ۱۳۵ دستخط اے امی مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پڑھ کر سنایا گیا۔ تسلیم کیا گیا۔ دستخط بیان عبدالحمید : ۔ میں نے ہی یہ کاغذ جو ڈاکٹر کلارک نے پیش کیا ہے لکھا تھا اور دستخط کئے دستخط حاکم = = جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھر اس سے بگڑ کر قادیاں بن گیا۔ اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ قریباً ساٹھ کوں ہے ان دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا غالبا اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھے زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں۔ اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے اس تمام علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمرقند سے اس ملک میں آئے۔