کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 630

کتاب البریہ — Page 163

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۶۳ اس مباحثہ کے وقت سے ہے جو ۱۸۹۳ء میں موسم گرما میں ہوا تھا۔ میں نے اس مباحثہ میں بڑا بھاری حصہ لیا تھا۔ یہ مباحثہ اس میں اور ایک بڑے بھاری عیسائی عبداللہ آتھم کے مابین ہوا۔ جو مر گیا ہے۔ میں میر مجلس تھا۔ اور دو موقعوں پر مسٹر آ تھم کی جگہ بطور مباحث کے بیٹھا ۱۳۵۶ تھا۔ مرزا صاحب کو بہت ہی رنج ہوا تھا۔ اس کے بعد اس نے ان تمام کی موت کی پیش گوئی کی جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا اور میرا حصہ بہت ہی بھاری تھا۔ اس وقت سے اس کا سلوک میرے ساتھ بہت ہی مخالفانہ رہا ہے۔ اس مباحثہ کے بعد خاص دلچسپی کا مرکز مسٹر آتھم رہا۔ چار الگ کوششیں اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں۔ اس کی موت کی مقرر کردہ میعاد کے آخری دو ماہ میں خاص پولیس کا پہرہ دن رات فیروز پور میں رکھا گیا۔ اسے امرتسر سےانبالے اور انبالے سے فیروز پور بھاگنا پڑا۔ ان کوششوں کے باعث سے جو اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں } اور یہ کوششیں عام طور پر مرزا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔ اس کی موت بقیه حاشیه در حاشیه پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل وعیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لا ہور سے تخمینا بفا صلہ پچاس کوس بگو شیر شمال مشرق واقع سے فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا التوحيــد يـا ابـنـاء الفارس یعنی تو حید کو پکڑ و توحید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔ پھر دوسرا الہام میری ۱۳۴) نسبت یہ ہے لو كان الايمان معلقا بالثريا لنا له رجل من فارس یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جا کر اس کو لے لیتا۔ اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے ان الذين كفروا ردَّ عَلَيْهِم رجل من فارس شكر الله سعیہ۔ یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکر گذار ہے۔ یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔ والحق ما اظهره الله منه