کتاب البریہ — Page 152
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۱ ۹۲ ۱۵۲ کتاب البرية محمد صاحب نے زن پرستی ۔ قبر پرستی۔ مردہ پرستی ۔ لونڈی پرستی ۔ اور ظلم پرستی کی تخم ریزی کر کے اکثر ملکوں میں تمام جہان کی برائیوں اور بدفعلیوں کا ایک پژاوہ بھڑ کا دیا تھا۔ کل اہل اسلام کے بزرگوں وغیر ہم کو زبان پر تو حید اور عمل میں زن پرست و زانی کہا ہے۔ ۹۴ ۹۷ محمد صاحب نے اپنی لونڈی کے ساتھ زنا کیا پھر معافی مانگی ۔ شہوت پرست تھے۔ عبادت الہی کو چھوڑ کر عورتوں کا حکم بجالاتے تھے۔ ۱۰ محمد صاحب زن مرید تھے ۔ قرآن میں شیطانی راہ کی باتیں بھی ہیں۔ یہ نمونہ ہے اس درشت اور قابل تاسف زبان کا جو ہماری ست بچن جیسی کتاب کے مقابل پر ہمارے ہادی و مقتدا استید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں استعمال کی گئی ہے۔ سیہ وہ سخت الفاظ اور توہین اور تحقیر کے کلمات ہیں جو پادری صاحبان اور آریہ صاحبان نے اپنی کتابوں میں ہمارے سید و مولیٰ جناب سید المرسلین و خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کئے ہیں۔ اور ان کتابوں میں سے اکثر کتا ہیں کئی دفعہ چھپ کر پنجاب اور ہندوستان میں شائع کی گئی ہیں۔ اور ہمیشہ مشن سکولوں کے طالب العلموں کو پڑھنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ اور کوچوں اور بازاروں میں سنائی جاتی ہیں۔ اور عیسائی عورتیں جو وعظ پر مقرر ہیں مسلمانوں کے گھروں میں لے جاتی ہیں۔ ہم بیان نہیں کر سکتے کہ ہم نے ان تمام الفاظ کو کس کراہت اور درد دل اور لرزاں بدن سے لکھا ہے۔ اگر عدالت کی کارروائی ہم کو ان کے لکھنے کے لئے مجبور نہ کرتی اور ڈاکٹر کلارک صاحب ہم پر یہ الزام دروغ نه لگاتے کہ گویا ہم عیسائیوں کے مقابل پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں تو یہ زہر آمیز کلمات جو سلطان الصادقین اور خیر المرسلین کی شان میں لکھے گئے ہیں اور ہمیشہ عیسائی اخباروں میں لکھے جاتے ہیں ہم ہرگز اس کتاب میں نہ لکھتے ۔ ۱۲۵