کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 630

کتاب البریہ — Page 145

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۴۵ كتاب البرية وعدہ وعید کا تملق و تعشق آمیز بیان۔ ۱۰۸۔ اس کی تعلیم خیالی لا ابالی زہریلی۔ خون کی پیاسی۔ ۱۰۹- پر از کذب ولاف گم از صداقت ۔ متفرق -۵۳۔ موسیٰ آتش پرست - ۱۳۵۔ سلیمان بت پرست زانی قاتل ۔ موسیٰ قتل عام اور زنا کرانے والا ۔ باکرہ چھوکریوں سے زنا بالجبر کرانے کا مرتکب ۔ جھوٹا۔ ۱۳۹۔ نشان اسلام قتل عام - اسلام دین بالجبر ویران کننده عالم - ۱۳۶ ۔ آدم خدا کا پالتو طوطی ۔ ۱۴۰۔ اسلامی بزرگ افترا پرداز - مسوده باز ، مشوره باز ۲۶۴۔ اسلام و دہریت تو ام ۔ کتاب ثبوت تناسخ مصنفہ لیکھر ام مطبوعہ مفید عام لاہور ۱۸۹۵ء ۱۴۷۔ قرآنی خدا لوگوں سے تمسخر کرتا ہے ۔ جعفر زٹلی کی طرح یا ملا دو پیازہ کی طرح ورنہ وہ فی الحقیقت ظالم و مکار ہے ۔ ۱۵۴ ( اسلامی ) خدایا خود غرض ہے یا پاگل یا ظالم - ۱۵۷۔ قرآنی خدا رشوت خوار حاکم سے کم نہیں ۔ ویدک خدا کے آگے خدائے محمد یان کی شامت ہے ۔ ۱۶۹) آپ ایک مسلمان ) جس خاک پر ہر روز بول و براز کرتے ہیں وہ تمہارے بزرگوں کی خاک ہے ۔۔ گور میں ان کی خاک کو بچھو کیڑے کھاتے ہیں۔ خلق عالم جوتے پہنے ان کے سر پر گذرتی ہے تمہارے بزرگوں نے کتوں کے قالبوں میں حلول کیا ۔ ۱۷۱۔ غریب بے بضاعت خدا عرش کے بالا خانہ پر ہنوز چشمانش نگرانست که ملکش پریشان است کی طرح اوسان باختہ بیٹھا رہے گا ۔ چند دنوں سے غریب بے بضاعت خدا نقش موہوم وتخیل کی طرح مداری بن۔ اپنے پیٹ سے انتڑیاں نکال ۔ تما شا دکھلا ۔ خدا بن بیٹھا ۔ گدھا، بلا ، سؤر ، کتا ، خرس، پاخانہ خدا کو خود بننا پڑا۔۔ ایسے مداری تماشا ۱۱۸ گر چھلیا نقش موہوم بہروپیا بلکہ تخیل کا کیا اعتبار ۔