کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 630

کتاب البریہ — Page 93

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۳ میں دو نہریں اب تک موجود ہیں ایک دلائل عقلیہ کی نہر دوسرے آسمانی نشانوں کی نہر لیکن عیسائیوں کی انجیل دونوں سے بے نصیب اور خشک رہی ہے۔ گے پرستند بنده را جز آنکه نادانی بود پس بگرید بر رو شاں ہر کہ گریانی بود آں خداوندے کہ نامش ہست بر ہر برگ ثبت ہر کہ جوید آں خدا را اومسلمانی بود میں نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ پادری صاحبان کا ایک بڑا محقق شملر نام کہتا ہے کہ یوحنا کی انجیل کے سوا باقی تینوں انجیلیں جعلی ہیں۔ اور مشہور فاضل ڈاڈ ویل اپنی تحقیقات کے بعد لکھتا ہے کہ دوسری صدی کے وسط تک ان موجودہ چارا نجیلوں کا کوئی نشان دنیا میں نہ تھا۔ سیمرل کہتا ہے کہ موجودہ عہد نامہ یعنی انجیلیں نیک نیتی کے بہانہ سے مکاری کے ساتھ دوسری صدی کے آخر میں لکھی گئیں ۔ اور ایک پادری ایوسن نام انگلستان کا رہنے والا کہتا ہے کہ منی کی یونانی انجیل دوسری صدی مسیحی میں ایک ایسے آدمی نے لکھی تھی جو یہودی نہ تھا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں بہت سی غلطیاں اس ملک کے جغرافیہ کی بابت اور یہودیوں کی رسومات کی بابت ہیں۔ عیسائیوں کے محقق اس بات کے بھی مقر ہیں کہ ایک عیسائی اپنے مذہب کے رو سے انسانی سوسائٹی میں نہیں رہ سکتا اور نہ تجارت کر سکتا ہے کیونکہ انجیل میں امیر بنے اور گل کی فکر کرنے سے منع کیا گیا ہے ایساہی کوئی سچا عیسائی فوج میں بھی داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ دشمن کے ساتھ محبت کرنے کا حکم ہے۔ ایسا ہی اگر کامل عیسائی ہے تو اس کو شادی کرنا بھی منع ہے۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل ایک مختص الزمان اور مختص القوم قانون کی طرح تھی جس کو حضرات عیسائیوں نے عام ٹھہرا کر صدہا (۲۹) اعتراض اس پر وارد کرالئے۔ بہتر ہوتا کہ وہ بھی اس بات کا نام نہ لیتے کہ انجیل کی تعلیم میں کسی قسم کا کمال ہے۔ ان کے اس بے جا دعوے سے بہت سی خفت اور سبکی ان کو اٹھانی پڑی ہے۔ ایک اور بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی لوگ لفظ الوہیم سے جو اللہ کی جمع ہے اور کتاب پیدائش تو ریت میں موجود ہے یہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ تثلیث کی طرف