کتاب البریہ — Page 92
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۲ كتاب البرية اور ابوالحسن خرقانی۔ اور ابو یزید بسطامی اور جنید بغدادی اور محی الدین ابن العربی۔ اور ذوالنون مصری اور معین الدین چشتی اجمیری اور قطب الدین بختیار کا کی۔ اور فرید الدین پاک پٹنی ۔ اور نظام الدین دہلوی۔ اور شاہ ولی اللہ دہلوی۔ اور شیخ احمد سرہندی رضی اللہ عنهم و رضوا عنه اسلام میں گزرے ہیں۔ اور ان لوگوں کا ہزار ہا تک عدد پہنچا ہے۔ اور اس قدر ان لوگوں کے خوارق علماء و فضلاء کی کتابوں میں منقول ہیں کہ ایک متعصب کو با وجود سخت تعصب کے آخر ماننا پڑتا ہے کہ یہ لوگ صاحب خوارق و کرامات تھے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے نہایت صحیح تحقیقات سے دریافت کیا ہے کہ جہاں تک بنی آدم کے سلسلہ کا پتہ لگتا ہے سب پر غور کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس قد را سلام میں اسلام کی تائید میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی گواہی میں آسمانی نشان بذریعہ اس امت کے اولیاء کے ظاہر ہوئے اور ہورہے ہیں ان کی نظیر دوسرے مذاہب میں ہرگز نہیں ۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی ترقی آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور اس کے بے شمار انوار اور برکات نے خدا تعالیٰ کو قریب کر کے دکھلا دیا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ اسلام اپنے آسمانی نشانوں کی وجہ سے کسی زمانہ کے آگے شرمندہ نہیں۔ اسی اپنے زمانہ کو دیکھو جس میں اگر تم چاہو تو اسلام کیلئے رؤیت کی گواہی دے سکتے ہو۔ تم سچ سچ کہو کہ کیا اس زمانہ میں تم نے اسلام کے نشان نہیں دیکھے؟ پھر بتلاؤ کہ دنیا میں اور کونسا مذ ہب ہے کہ یہ گواہیاں نقد موجود (۲۸) رکھتا ہے؟ یہی باتیں تو ہیں جن سے پادری صاحبوں کی کمر ٹوٹ گئی ۔ جس شخص کو وہ خدا بناتے ہیں اس کی تائید میں بجز چند بے سروپا قصوں اور جھوٹی روایتوں کے ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اور جس پاک نبی کی وہ تکذیب کرتے ہیں اس کی سچائی کے نشان اس زمانہ میں بھی بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کے لئے اب بھی نشانوں کے دروازے کھلے ہیں جیسا کہ پہلے کھلے تھے۔ اور سچائی کے بھوکوں کے لئے اب بھی خوان نعمت موجود ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ زندہ مذہب وہی ہوتا ہے جس پر ہمیشہ کے لئے زندہ خدا کا ہاتھ ہو سو وہ اسلام ہے۔ قرآن