خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 57

روحانی خزائن جلد ۱۶ بزرگتر است بڑھ کر ہے ۵۷ خطبه الهاميه ه عالم الاحوال – ولاهـدم بــه عـمـود و تا که من بدو ستون اور تا کہ میں اس کے ذریعہ سے اس الافتراء على الله والافتعال – واما الجمال الذي آن افترا را منهدم کنم که بر خدا می بندند - مگر جمالے کہ داده شدم افترا کے ستون کو گرا دوں جو خدا پر باندھتے ہیں ۔ لیکن وہ جمال جو مجھ کو اعطيت فهو اثر لبروزى الأحمدى من الله پس آن اثر آن بروز من است که از خدائے صاحب لطف ملا ہے وہ میرے اس بروز کا اثر ہے جس کا نام بخشش کرنے والے خدا کی ذي اللطف والنوال - لاعيد به صلاح التوحيد و بخشش بروز احمدی نام می دارد تا کہ من بداں نیکی تو حید را طرف سے بروز احمدی ہے تا کہ میں اس کے ذریعہ سے توحید کی نیکی کو المفقود من الالسن والقلوب والاقوال والافعال که از زبان ها و دل با و گفتار با و کردار با گم شده بود واپس جو زبانوں اور دلوں اور باتوں اور کاموں سے جاتی رہی ہے واپس لاؤں واقيم به امر التدين والانتحال – وامرت ان بیارم وامر دینداری را قائم کنم و من حکم کرده شدم که اور اس کے ذریعہ سے دینداری کے امر کو قائم کروں اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ ☆ اقتل خنازير الافساد والالحاد والاضلالخنزیر ہائے فساد و الحاد و گمراه کردن را بکشم میں فساد اور الحاد اور گمراہ کرنے کے ان سؤروں کو ماروں اللفظ لفظ الحديث كما جاء فى البخارى والمراد من القتل اتمام الحجة وابطال الباطل بالدلائل القاطعة والأيات السماوية لا القتل حقيقة۔ منه