خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 56

روحانی خزائن جلد ۱۶ خطبه الهاميه الافناء والاحياء من الرب الفعال - فاما الجلال فانی کردن و زنده کردن از پروردگاری که بر هر کار قادر است ۔ مگر جلالے کہ داده شدم فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ہے لیکن وہ جلال الذي اعطيت فهو اثر لبروزى العيسوى من پس آں اثر آں بروزمن است که عیسوی است از جو مجھ کو دیا گیا ہے وہ میرے اس بروز کا اثر ہے جو عیسوی بروز ہے اور جو خدا کی ☆ الله ذي الجلال - لابيد به شر الشرك المواج خدائے کہ ذوالجلال است تا من آن بدی شرک را نیست کنم که موج زن تا کہ میں اس شرک کی بدی کو نابود کروں جو طرف سے ہے الموجود فى عقائد اهل الضلال المشتعل بكمال و موجود در عقائد گمراهان است و بکمال اشتعال گمراہوں کے عقیدوں میں موج مار رہی ہے اور موجود ہے اور اپنی پوری بھڑک میں الاشتعال - الذى هـواكـبـر مـن كــل شــر فــي احوال از هر شر مشتعل است بھڑک رہی ہے قد قلت غير مرة اني ما اتيت بالسيف ولا السنان۔ وانما اتيت بالأيات بار با گفته ام که من به تیغ و نیزه نیامده ام وجز این نیست که آمدن من به نشانهاست میں نے کئی دفعہ بتلایا ہے کہ میں تلواروں اور نیزوں کے ساتھ نہیں آیا ہوں بلکہ میرے پاس نشان ہیں اور آنکه در چشم خدائے داننده اور جو حالات کے جاننے والے خدا کی نظر میں ہر ایک بدی سے والقوة القدسية وحسن البيان۔ فجلالى من السماء لا بالجنود والاعوان۔ منه و قوت قدسیه و حسن بیان ۔ پس جلال من از آسمان است نه به لشکر ہاو مددگاراں ۔ قوت قدسیہ اور حسن بیان ہے ۔ پس میرا جلال آسمانی ہے نہ کہ لشکروں کے ساتھ ۔ م منه منه