خطبة اِلہامِیّة — Page 35
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۵ خطبه الهاميه لَهُ خِفَاءٌ وَلَا مِرَاءٌ - فِيْ أَنَّ هَذَا إِيْمَاءُ - إِلَى أَنَّ بر و پوشیده نخواهد ماند و دریں امریچ نزاعی دامن او نخواهد گرفت که این اشتراک دو معنی که در لفظ نُسک موجود پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نسک کے الْعِبَادَةَ الْمُنْجِيَةَ مِنَ الْخَسَارَةِ - هِيَ ذَبْحُ النَّفْسِ است سوئے ایں راز اشاره است که پرستش که از خسران آخرت نجات دهد آن کشتن نفس امارہ است کہ برائے بدی لفظ میں پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا الْأَمَّارَةِ - وَنَحْرُهَا بِمُدَى الْإِنْقِطَاعِ إِلَى اللَّهِ و بدکاری بسیار در بسیار جوش با میدارد و حاکی است بسیار بد فرما پس نجات در یں است که این بد فرمارا ذبح کرتا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے ذِي الْآلَاءِ وَالْأَمْرِ وَالْإِمَارَةِ - مَعَ تَحَمُّلٍ أَنْوَاعِ بکارد ہائے بریدن از خلق و آرمیدن حق ذبح کنند و از وسوئے خدائے بگریزند که حکومت حقیقی و فرمان روائی بدست قبضه قدرت پس نجات اس میں ہے کہ اس بُر احکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے الْمَرَارَةِ - لِتَنْجُوَ النَّفْسُ مِنْ مَوْتِ الْغَرَارَةِ - وَ اوست و با این همه از بهر این کارگو ناگون تختی بارا باید برداشت تا نفس از موت غفلت نجات یابد و خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جان قرار دیا جائے اور اسکے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت هذَا هُوَ مَعْنَى الْإِسْلَام - وَحَقِيْقَةُ الْإِنْقِيَادِ التَّامَ و همین ست حقیقت اطاعت کامله ہمیں است معنی اسلام کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے وَالْمُسْلِمُ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - وَ و مسلمان آنکس است که برائے خدا تعالیٰ گردن خود از بهر ذبح شدن نهاده باشد اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کیلئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔ اور و