خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 25

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵ خطبه الهاميه اب ہمارے مخالف گواس دمشقی حدیث کو بار بار پڑھتے ہیں مگر وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے کہ یہ جو اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود دمشق کی شرقی طرف کے منارہ کے قریب نازل ہوگا اس میں کیا بھید ہے بلکہ انہوں نے محض ایک کہانی کی طرح بقیه حاشیه پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا بَارَكْنَا حَوْلَهُ یعنی مسیح موعود کی فرودگاہ کے اردگرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف سے برکتیں نظر آئیں گی چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ زمین کیسی آباد ہو گئی باغ کیسے بکثرت ہو گئے نہریں کیسی بکثرت جاری ہو گئیں تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہو گئیں۔ پس یہ زمینی برکات ہیں۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہوگئی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تائیدات کا بھی ایک دریا چل رہا تھا۔ فحاصل البيان ان الزمان زمانان زمان التائيدات ودفع الآفات و زمان البركات والطيبات واليه اشار عزاسمه بقوله سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَرَكْنَا حَوْلَهُ فاعلم ان لفظ مسجد الحرام في قوله تعالى يدل على زمان فيه ظهرت عزة حرمات الله بتائيد من الله وظهرت عزة حدوده واحكامه و فرائضه وتراء ت شوكة دينه ورعب ملته۔ وهو زمان نبينا صلى الله عليه وسلم۔ والمسجد الحرام البيت الذي بناه ابراهيم عليه السلام في مكة وهو موجود الى هذا الوقت حرسه الله من كل آفة۔ وامـا قـولـه عـاسـمـه بعد هذا القول اعنى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فيدل على زمــان فيـه يظهر بركات في الارض من كل جهة كما ذكرناه انفا وهو زمان المسيح الموعود والمهدى المعهود والمسجد الاقصى هو المسجد الذي بناه المسيح الموعود في القاديان