خطبة اِلہامِیّة — Page 24
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۴ خطبه الهاميه لکھا گیا ہے کہ مسیح موعود دمشق کے شرقی طرف نازل ہوگا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی قرار داد باتیں صرف امور اتفاقیہ نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے نیچے اسرار اور رموز ہوتے ہیں وجہ یہ کہ خدا تعالی کی تمام باتیں رموز اور اسرار سے پر ہیں۔ بقیه حاشیه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرا کنارہ ہے ابتدا میر کا جو مسجد الحرام سے بیان کیا گیا اور انتہا سیر کا جواس بہت دور مسجد تک مقرر کیا گیا جس کے ارد گرد کو برکت دی گئی۔ یہ برکت دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں شوکت اسلام ظاہر کی گئی اور حرام کیا گیا کہ کفار کا دست تعدی اسلام کو مٹادے جیسا کہ آیت وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنا سے ظاہر ہے۔ لیکن زمانہ مسیح موعود میں جس کا دوسرا نام مہدی بھی ہے تمام قوموں پر اسلام کی برکتیں ثابت کی جائیں گی اور دکھلایا جائے گا کہ ایک اسلام ہی بابرکت مذہب ہے جیسا کہ بیان کیا گیا کہ وہ ایسا برکات کا زمانہ ہو گا کہ دنیا میں صلح کاری کی برکت پھیلے گی اور آسمان اپنے نشانوں کے ساتھ برکتیں دکھلائے گا اور زمین میں طرح طرح کے پھلوں کے دستیاب ہونے اور طرح طرح کے آراموں سے اس قدر برکتیں پھیل جائیں گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں پھیلی ہوں گی ۔ اسی وجہ سے مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کا نام احادیث میں زمان البرکات ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہزار ہانی ایجادوں نے کیسی زمین پر برکتیں اور آرام پھیلا دیئے ہیں کیونکہ ریل کے ذریعہ سے مشرق اور مغرب کے میوے ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں اور تار کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں کی خبریں پہنچ جاتی ہیں۔ سفر کی وہ تمام مصیبتیں یکدفعہ دور ہوگئیں جو پہلے زمانوں میں تھیں ۔ غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا اور اُس زمانہ میں خدا تعالی کا بھاری مقصد دفع شر تھا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُس زمانہ میں اسلام کو اپنے قومی ہاتھ سے دشمنوں سے بچایا اور ودشمنوں کو یوں ہا تک دیا جیسا کہ ایک مرد مضبوط اپنی لاٹھی سے کتوں کو ہانک دیتا ہے۔ ال عمران : ۹۸