خطبة اِلہامِیّة — Page 190
روحانی خزائن جلد ۱۶ 190 خطبه الهاميه إن إنكار المأمورين شيء عظيم، ومن حاربهم نیکو بدانید که انکار ماموران امر است بس بزرگ و آنکه با اوشاں جنگ کرد خوب جان لو کہ ماموروں کا انکار بڑی بھاری بات ہے اور جو ان سے لڑا فقد ألقى نفسه في الجحيم، فلا خير في هذه بگردانید را هیزم دوزخ دریں جنگ آر کو دوزخ کا كندا بنایا۔ اے لڑنے والو! الحرب أيها المحاربون ۔ وأنتم تقرء ون في نیست۔ ور فاتحہ جنگ کنندگان برائے شما هیچ بہبود لڑائی میں تمہارے لئے کوئی بہتری نہیں۔ تم سورۃ فاتحہ میں الفاتحة ذكر قوم غضب الله عليهم بما كفروا ذکر آں قوم می خوانید که خدا بر سر اوشاں غضب فرود آورد بسبب آنکه اس قوم کا ذکر پڑھتے ہو جن خدا کا غضب اس لئے اترا کہ انہوں نے المسيح ۔ ابن مریم و کفروه و آذوه مسیح این مریم کفر کردند و رنجانیدند سیح این مریم کا کفر کیا وحقروه وأسروه وأرادوا أن يصلبوه ليحسب هیچ داشتند و گرفتار ساختند و خواستند که بردارش کشند بجهت آنکه اور اس کو حقیر جانا اور ستایا اور پکڑوایا اور چاہا کہ سولی دیں اس لئے کہ الناس أنه أشقى الناس والملعون، ففكروا ملعون پندارند ۔ مردم او را و بد بخت اسے ملعون اور بد بخت جانیں۔ باید که چاہیے