خطبة اِلہامِیّة — Page 189
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۸۹ خطبه الهاميه توبةً نصوحًا لعلكم تُرحمون ۔ وقال ربّي " : إِنَّ (۳) بجا آرید تا بر شما رحم آورند و پروردگار مرا فرمود که هر آئینہ خدا نے مجھے فرمایا کہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔ اور خدا خدا اللهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ۔ حالت بیچ قومی را تغییر نہ مے کند تا وقتے کہ ایشاں حالت اندرون خود را تبدیل نسازند۔ ہر آئینہ کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ خود وہ لوگ اپنی اندرونی حالت کو تبدیل نہ کریں۔ اور أوَى الْقَرْيَةَ"، يعني من دخلها كان آمِنًا، وأخاف خدا این ده را در پناه خود در آورد بایں معنی کہ ہر کہ دراں داخل شد ایمن گردید۔ ومن بر جان آناں بیچ بیچ خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ یعنی جو کوئی اس میں داخل ہوا وہ سلامت رہا۔ ہاں على الذين لا يخافون الله ولا ينتهون ۔ فقوموا می لرزم که از خدا نمی ترسند و از سیاه کاری باز نمی آیند اکنون باید که مجھے ان کا فکر ہے جو خدا سے نہیں ڈرتے اور سیاہ کاری سے باز نہیں آتے۔ اب چاہیے کہ من مواضعكم خاشعين، واسجدوا توابين از جاہائے خود با عجز و نیاز برخیزید و اپنی جگہوں سے عاجزی ނ با تو به سجود بکنید اٹھو اور توبہ کے ساتھ سجدے کرو وكونوا لنفوسكم ناصحين وفق روا مرتعدين، و و غمخواری جان خود بنمائید و بیم نا کی فکر بکنید اندیشہ , اور اپنی جان کا فکر کرو۔ اور سوچ اور خوف کے ساتھ فکر کرو ولا تكونوا كالذين يفسقون وهم يضحكون مانند آنان مشوید که فستق اور ان کی طرح نہ ہو ے ورزند و خنده ے زنند جاؤ جو فاسق ہیں اور ٹھٹھے مارتے ہیں