خطبة اِلہامِیّة — Page xxi
’’چونکہ میں خدا تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ آج کا دن اور رات کا حصہ دعاؤں میں گذاروں۔اس لئے میں جاتا ہوں تاکہ تخلّف و عدہ نہ ہو۔‘‘ یہ فرما کر حضورؑ تشریف لے گئے اور دعا میں مشغول ہو گئے۔دوسری صبح عید کے دن مولوی عبدالکریم صاحب نے اندر جا کر حضرت اقدس سے تقریر کرنے کے لئے خصوصیت سے عرض کی۔اس پر حضور ؑ نے فرمایا :۔’’خدا نے ہی حکم دیا ہے۔‘‘ اور پھر فرمایا کہ ’’رات الہام ہوا ہے کہ مجمع میں کچھ عربی فقرے پڑھو۔میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔‘‘۔۔۔۔۔۔جب حضرت اقدسؑ عربی خطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو حکم دیا کہ وہ قریب تر ہو کر اس خطبہ کو لکھیں۔جب حضرات مولوی صاحبان تیار ہو گئے تو حضور نے یاعباداﷲ کے الفاظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا۔۔۔اثنائے خطبہ میں حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا۔’’اب لِکھ لو پھر یہ لفظ جاتے ہیں‘‘ جب حضرت اقدس خطبہ پڑھ کر بیٹھ گئے تو اکثر احباب کی درخواست پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب اس کا ترجمہ سنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔اس سے پیشترکہ مولانا موصوف ترجمہ سنائیں حضرت اقدس نے فرمایا کہ ’’اس خطبہ کو کل عرفہ کے دن اور عید کی رات میں جو میں نے دعائیں کی ہیں ان کی قبولیت کے لئے نشان رکھا گیا تھا کہ اگر میں یہ خطبہ عربی زبان میں ارتجالاً پڑھ گیا تو وہ ساری دعائیں قبول سمجھی جائیں گی۔الحمد ﷲ کہ وہ ساری دُعائیں بھی خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق قبول ہو گئیں۔‘‘ ابھی مولانا عبدالکریم صاحب ترجمہ سُنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس فرطِ جوش کے ساتھ سجدۂ شکر میں جا پڑے۔حضورؑ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکر ادا کیا۔سجدہ سے سر اُٹھا کر حضرت اقدس نے فرمایاکہ ’’ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ ’’مبارک‘‘ یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔‘‘ (ملفوظات جلداول صفحہ۳۲۴249 ۳۲۵)