خطبة اِلہامِیّة — Page xx
اور اس سے پہلے طبع اوّل کے ٹائٹل پیج کے صفحہ ۲ سے ا ‘ ب ‘ ج صفحات اور اس طبع کے صفحہ ۳ سے صفحہ۱۱ تک عربی زبان میں جو ’’اَ لْاِعْلَان‘‘شائع شدہ ہے اس کے نیچے ۲۵؍ اگست ۱۹۰۱ء تاریخ درج ہے اور حاشیہ متعلقہ خطبہ الہامیہ جو زیر عنوان ’’ماالفرق بین اٰدم و المسیح الموعود‘‘ اور ’’الحالۃ الموجودۃ تدعو المسیح الموعود و المہدی المعہود‘‘ جو کتاب کے آخر میں طبع اول کے صفحہ ا سے صفحہ ش تک اور اس طبع کے صفحہ ۳۰۷ سے صفحہ ۳۳۴ تک درج ہے۔اس کے آخر میں ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء تاریخ لکھی ہے۔ان تاریخوں سے ظاہر ہے کہ اصل خطبہ کے علاوہ جو آپ نے ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء کو دیا تھا باقی چار ابواب اور دوسرے اشتہار اور حواشی آپ نے مئی ۱۹۰۰ء سے لے کر اکتوبر ۱۹۰۲ء تک کے درمیانی عرصہ میں کسی وقت تصنیف فرمائے اور اس کی اشاعت موجودہ مکمل کتاب کی صورت میں اکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد ہوئی۔خطبہ الہامیہ ایک خدائی نشان ہے عید الاضحی ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء کی تقریب میں شمولیت کے لئے ۱۰؍ اپریل سے ہی مہمانوں کی آمد قادیان میں شروع ہو گئی تھی اور بٹالہ ، امرتسر، لاہور، سیالکوٹ ، جموں، پشاور ، گجرات، جہلم ، راولپنڈی، کپورتھلہ ، پٹیالہ ، سنور وغیرہ بہت سے مقامات سے مہمان پہنچ چکے تھے۔اخبار الحکم ۱۷؍اپریل ۱۹۰۰ء میں روئیداد جلسہ عیداضحٰی کے عنوان کے تحت لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :۔یوم العرفات کو علی الصبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ ایک خط کے حضرت مولانا نور الدین صاحب کو اطلاع دی کہ ’’میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصّہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے دُعا میں گذارنا چاہتا ہوں۔اس لئے وہ دوست جو یہاں موجود ہیں اپنا نام اور جائے سکونت لکھ کر میرے پاس بھیج دیں تاکہ دعا کرتے وقت مجھے یاد رہے ‘‘ (اس پرتعمیل ارشاد میں ایک فہرست احباب کی ترتیب دے کر حضور ؑ کی خدمت میں بھیج دی گئی۔مغرب و عشاء میں حضورؑ تشریف لائے۔جو جمع کی گئیں بعد فراغت فرمایا:۔