خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 175

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۷۵ خطبه الهاميه الحق فى تراب، ويمزقوا أذياله ككلاب، ولا يفكرون کنند و ور زیر خاک پنہاں کنند و دامن آنرا چون سگان پاره پاره خاک کے نیچے چھپا دیں اور اس کے دامن کو کتوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اپنے في ليلهم ولا نهارهم أنهم يُسألون۔ ولو تيسر لهم , روز شب خویش فکر نمی کنند که آخر پرسیده خواهند شد۔ اگر مرا کشتن اور دن میں فکر نہیں کرتے کہ آخر پوچھے جائیں گے اگر مجھ کو قتل قتلى لقتلوني ولاغتالونى لو يُسرون مقتلى، ولكن (1) سکتے توانستند تو ضرور البته می کشتند محقل کرتے۔ الله خيبهم فيما يقصدون۔ يمكرون كل مكر لیکن خدا اوشان را ناکام و نامراد گردانید برائے نابود کردن من مکر با درکار لیکن خدا نے ان کو ناکام اور نامراد رکھا میرے نابود کرنے میں لإعدامى، فينزل أمر من السماء فيجعل مكرهم کنند دریں اثنا امرے از آسمان پیدا ے شود که مکر کام میں لاتے ہیں تب آسمان سے ایک ایسا امر نازل ہوتا ہے کہ ان کے هباء وهم لا يعلمون۔ وإنّ معى قادر لا يبرح ے وید فکر اوشان را برباد و اوشاں نمے دانند با من قادر بیست مکر کو برباد کر دیتا ہے اور وہ نہیں جانتے میرے ساتھ ایک ایسا قادر ہے مکــانــی حَفَظَته، ولا يبعُد مني طرفة عين که پاسبانان او از مکان من دور نمی شوند و رحمتش مرا بیک چشم زدن کہ اس کے نگہبان میرے گھر سے دور نہیں ہوتے اور اس کی رحمت ایک لمحہ بھی مجھ کو