خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 174

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۷۴ خطبه الهاميه كالكلاب كما تشاهدون ۔ثم ظهر نباً مغضوب مانند سگاں حمله کردن اوشان است چنانکه می بینید باز خبر مغضوب علیہم ظاہر شد کتوں کی طرح حملہ کرنا ہے۔ جیسا کہ دیکھتے ہو۔ پھر علیہم کی خبر ظاہر ہوئی المغضوب عليهم، فترى حزبًا من العلماء ومن چنانچہ شما گرو ہے از جیسا که تم علماء علماء و تابعان ایشاں را از تابعوں کے گروہ اور ان کے من أهل الدنيا والأمراء والفقراء كيف اہل دنیا و امرا و فقرا ے بینید که چھ قدر تکبر می کنند اور اہل دنیا اور امیروں اور پیروں اور فقیروں اور درویشوں میں دیکھتے ہو کہ کس قدر تکبر يستكبرون ولا يتذلّلون، ويراء ون ولا يخلصون، فروتنی نمی ورزند و ریا می کنند و اخلاص ندارند و گویند کرتے ہیں خاکساری اختیار نہیں کرتے۔ ریا کرتے ہیں اخلاص نہیں رکھتے۔ اور وہ ایسی باتیں بتاتے ہیں ويقولون ما لا يفعلون۔ وأخلدوا إلى الأرض وإلى آنچه نه می کنند پر دنیا سرنگوں شده اند و بسوئے خدا جو خود نہیں کرتے دنیا پر اوندھے پڑے ہیں اور خدا کی طرف الله لا يتوجهون ۔ ولا يؤمنون بأيام الله، ويرون آيات نم رو آرند و روز ہائے خدا ایمان ندارند متوجہ نہیں ہوتے اور خدا کے دنوں پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے الله ثم ينكرون ويريدون أن يدسوا نشانہائے خدا را می بینند و سر باز می زنند و می خواهند که حق را نشانوں کو دیکھتے ہیں اور سر پھیرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حق کو ,