خطبة اِلہامِیّة — Page 140
روحانی خزائن جلد ۱۶ وعدہ تھا ۱۴۰ خطبه الهاميه من الله فلا تحسبوا وعد الله كموا عيد قوم يكذبون۔ از خدا بود پس وعده خدا را مانند وعدہ ہائے دروغگویاں گمان نکنید پس خدا کے وعدہ کو جھوٹوں کے وعدوں کی طرح نہ سمجھو۔ وكيف يتم وعد الله من دون ان يظهر المسيح و چگونه وعده خدا تمام شود بدون آنکه مسیح از شما ظاهر شود اور خدا کا وعدہ کس طرح پورا ہو بغیر اس کے کہ مسیح تم میں ظاہر ہو منكم مالكم لا تفكرون في آيات الله ولا در آیات خدا فکر و تدبر نمی کنید کیوں خدا کی آیتوں میں فکر اور تدبر نہیں کرتے چرا تتدبرون۔ أيَليقُ بشان الله ان يعدكم انه آیا کیا سزاوار شان خداوندی است که با شما وعده کند خدا کی شان کے لائق ہے کہ تم سے وعدہ کرے۔ (۸۵) يبـعـث الـخـلـفــاء مـنـكـم كـمـثـل الـذين خلوا من قبل خلفاء از میان شما پیدا کند مانند آنان که از پیش گذشتند کہ خلیفے تم میں سے پیدا کرے گا ان کی مانند جو پہلے گذرے ثم ينسلی وعده وينزل عيسى من السماء باز وعده خود را فراموش کند و عیسی را از آسمان فرود آرد پھر اپنے وعدہ کو بھول جائے اور عیسی کو آسمان سے اتارے سبحانه وتعالى عما تفترون۔ فمالكم انكم خدا تعالیٰ ازیں افترا ہائے شما بزرگ و بلند تر است خدا تعالیٰ تمہارے ان افتراؤں پاک اور برتر ہے کیوں چرا در حق