کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 566

کشتیءنوح — Page 52

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۵۲ کشتی نوح مگر خدا ان تہمتوں سے اپنے بندہ کو بری کرے گا اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان بنادیں گے اور یہ بات ابتدا سے مقدر تھی اور ایسا ہی ہونا تھا یہ عیسی بن مریم ہے جس میں لوگ شک کر رہے ہیں یہی قول حق ہے۔ یہ سب براہین احمدیہ کی عبارت ہے اور یہ الہام اصل میں آیات قرآنی ہیں جو حضرت عیسی اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ ان آیتوں میں جس عیسی کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے اُسی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنا ئیں گے اور یہی عیسی ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسی سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بنادیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسی بن مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نام ہی سے ہے جو خدا کے اسرار کو نہیں سمجھتے اور صورت پرست ہیں حقیقت پر ان کی نظر نہیں۔ یہ بھی یادر ہے کہ سورۃ فاتحہ کے عظیم الشان مقاصد میں سے یہ دعا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اور جس طرح انجیل کی دعا میں روٹی مانگی گئی ہے اس دعا میں خدا تعالیٰ سے وہ تمام نعمتیں مانگی گئی ہیں جو پہلے رسولوں اور نبیوں کو دی گئی تھیں یہ مقابلہ بھی قابل نظارہ ہے اور جس طرح حضرت مسیح کی دعا قبول ہو کر عیسائیوں کو روٹی کا سامان بہت کچھ مل گیا ہے اسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قبول ہو کر اخیار وابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے اور دراصل مسیح موعود کا اس اُمت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گو مخفی طور پر بہت سے اخیار و ابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی محبت رکھتے تھے اور بہت تعلق تھا جب میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی کسی نے ان کو خبر دی تو وہ بہت روئے اور کہا کہ ان کے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے یعنی یہ شخص کس پر پیدا ہوا ان کا باپ تو نیک مزاج اور افترا کے کاموں سے دور اور سیدھا اور صاف دل مسلمان تھا ایسا ہی بہتوں نے کہا کہ تم نے اپنے خاندان کو داغ حاشیه لگایا کہ ایسا دعویٰ کیا۔ منه