کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 566

کشتیءنوح — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۵۱ کشتی نوح تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہامی اسرار میری سمجھ میں نہ آتے مگر جب وقت آ گیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعوی مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں یہ وہی دعوئی ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بتفریح لکھا گیا ہے۔ اس جگہ ایک اور الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ صد ہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے اور وہ اُس زمانہ کا ہے جب کہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا۔ اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فاجاءها المخاض الى جذع النخلة قالت ياليتني مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دروزہ منہ کھجور کی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام ونشان باقی نہ رہتا یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتدا میں مولویوں کی طرف سے بہ ہیئت مجموعی پڑا اور وہ اس دعوے کی برداشت نہ کر سکے اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فتا کرنا چاہا تب (۲۸) اُس وقت جو کرب اور قلق نا سمجھوں کا شور و غوغا دیکھ کر میرے دل پر گذرا اُس کا اس جگہ خدا تعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے جیسا لقد جنت شيئا فريا ماکان ابوک امرء سوء وما كانت أمك بغيا اور پھر اس کے ساتھ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۶ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ الیسا الله بکاف عبده ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا ـ قول الحق الذي فيه تمترون دیکھو براہین احمدیہ صفحه ۵۱۶ سطر ۱۲ و ۱۳ ۔ ( ترجمہ ) اور لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا مکروہ اور قابل نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دور ہے تیرا باپ کی اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے نوٹ: اس الہام پر مجھے یاد آیا کہ بٹالہ میں فضل شاہ یا مہر شاہ نام ایک سید تھے جو میرے والد صاحب سے بہت