کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 566

کشتیءنوح — Page 84

روحانی خزائن جلد ۱۹ ΔΙ کشتی نوح کبھی کسی نبی یا اوتار پر گائے کی شکل پر ظاہر ہوا اور کسی پر کچھ یا مچھ کی شکل پر ظاہر ہوا اور انسان 20 کی شکل کا وقت نہ آیا جب تک انسان کامل یعنی ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے تو روح القدس بھی آپ پر بوجہ کامل انسان ہونے کے انسان کی شکل پر ہی ظاہر ہوا اور چونکہ روح القدس کی قوی تجلی تھی جس نے زمین سے لے کر آسمان کا اُفق بھر دیا تھا اس لئے قرآنی تعلیم شرک سے محفوظ رہی لیکن چونکہ عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس نہایت کمزور شکل میں ظاہر ہوا تھا یعنی کبوتر کی شکل پر اس لئے ناپاک روح یعنی شیطان اس مذہب پر فتح یاب ہو گیا اور اس نے اپنی عظمت اور قوت اس قدر دکھلائی کہ ایک عظیم الشان اثر دھا کی طرح حملہ آور ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے عیسائیت کی ضلالت کو دنیا کی سب ضلالتوں سے اول درجہ پر شمار کیا ہے اور فرمایا کہ قریب ہے کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں کہ زمین پر یہ ایک بڑا گناہ کیا گیا کہ انسان کو خدا اور خدا کا بیٹا بنایا اور قرآن کے اول میں بھی عیسائیوں کا رد اور ان کا ذکر ہے جیسا کہ آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ اور وَلَا الضَّالِّينَ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے آخر میں بھی عیسائیوں کا رد ہے جيسا كه سورة قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے درمیان بھی عیسائی مذہب کے فتنہ کا ذکر ہے جیسا کہ آیت تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَظَرْنَ مِنْهُ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن سے ظاہر ہے کہ جب سے کہ دنیا ہوئی مخلوق پرستی اور دجل کے طریقوں پر ایساز ور کبھی نہیں دیا گیا اسی وجہ سے مباہلہ کے لئے بھی عیسائی ہی بلائے گئے تھے نہ کوئی اور مشرک ۔ اور یہ جو روح القدس پہلے اس سے پرندوں یا حیوانوں کی شکل پر ظاہر ہوتا رہا اس میں کیا نکتہ تھا سمجھنے والا خود سمجھ لے اور اس قدر ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہمارے نبی صلعم کی انسانیت اس قدر زبردست ہے کہ روح القدس کو بھی الاخلاص: ۲ تا ۴ مریم : ۹۱