کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 550

کشف الغطاء — Page 225

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۵ کشف الغطاء پس اگر ہم محمدحسین کی طرح یہ اعتقاد رکھیں کہ ہم صرف پولیٹیکل طور پر اور ظاہری مصلحت کے لحاظ سے یعنی منافقانہ طور پر انگریزوں کے مطیع ہیں ورنہ دل ہمارے سلطان کے ساتھ ہیں کہ وہ خلیفہ اسلام اور دینی پیشوا ہے اس کے خلیفہ ہونے کے انکار سے اور اس کی نافرمانی سے انسان کا فر ہو جاتا ہے تو اس اعتقاد سے بلاشبہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے جیسے باغی اور خدا تعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔ تعجب ہے کہ گورنمنٹ ان باتوں کی تہ تک کیوں نہیں پہنچتی اور ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے۔ میں گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ادب سے عرض کرتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ غور سے اس شخص کے حالات پر نظر کرے کہ یہ کیسے منافقانہ طریقوں پر چل رہا ہے ، اور جن باغیانہ خیالات میں آپ مبتلا ہے وہ میری طرف منسوب کرتا ہے۔ بالآخر یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیاں دیں اور محمد بخش جعفر زٹلی سے دلائیں اور طرح طرح کے افترا سے میری ذلت کی اس میں میری فریاد جناب الہی میں ہے جو دلوں کے خیالات کو جانتا ہے اور جس کے ہاتھ میں ہر ایک کا انصاف ہے میں خدا سے یہی چاہتا ہوں کہ جس قسم کی میری ذلت جھوٹے بہتانوں سے اس شخص نے کی یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں مجھے باغی ٹھہرانے کے لئے خلاف واقعہ باتیں بیان کیں وہی ذلت اس کو پیش آوے۔ میرا ہر گز یہ مدعا نہیں ہے کہ بجز طریق جَزَاءُ سَيِّئَةِ بِمِثْلِهَا کے کسی اور ذلت میں یہ مبتلا ہو بلکہ میں مظلوم ہونے کی حالت میں یہی چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرے لئے اس نے ذلت کے سامان کئے ہیں اگر میں ان تہمتوں سے پاک ہوں تو وہ ذلتیں اس کو پیش آویں۔ اگر چہ میں جانتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بہت حلیم اور حتی المقدور چشم پوشی کرنے والی ہے لیکن اگر میں بقول محمد حسین باغی ہوں یا جیسا کہ میں نے معلوم کیا ہے خود محمد حسین کے ہی باغیانہ خیالات ہیں تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کامل تحقیقات کر کے جو شخص ہم دونوں میں سے در حقیقت مجرم ہے