کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 550

کشف الغطاء — Page 224

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۴ کشف الغطاء دینی پیشوا مان لینا چاہیے۔ اور اس مضمون میں میرے کافر ٹھہرانے کے لئے یہ ایک وجہ پیش کرتا ہے کہ یہ شخص سلطان روم کے خلیفہ ہونے کا قائل نہیں ہے۔ سو اگر چہ یہ درست ہے کہ میں سلطان روم کو اسلامی شرائط کے طریق سے خلیفہ نہیں مانتا کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور ایسے خلیفوں کا قریش میں سے ہونا ضروری ہے لیکن یہ میرا قول اسلامی تعلیم کے مخالف نہیں بلکہ حديث الأئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ سے سراسر مطابق ہے۔ مگر افسوس کہ محمد حسین نے باغیانہ طرز کا بیان کر کے پھر اسلام کی تعلیم کو بھی چھوڑ ا حالانکہ پہلے خود بھی یہی کہتا تھا کہ سلطان خلیفہ مسلمین نہیں ہے اور نہ ہمارا دینی پیشوا ہے اور اب میری عداوت سے سلطان روم اس کا خلیفہ اور دینی پیشوا بن گیا۔ اور اس جوش میں اس نے انگریزی سلطنت کا بھی کچھ پاس نہیں کیا اور جو کچھ دل میں پوشیدہ تھاوہ ظاہر کر دیا اور سلطان روم کی خلافت کے منکر کو کافر ٹھہرایا۔ اور یہ تمام جوش اس کو اس لئے پیدا ہوا کہ میں نے انگریزی سلطنت کی تعریف کی اور یہ کہا کہ یہ گورنمنٹ نہ محض مسلمانوں کی دنیا کے لئے بلکہ ان کے دین کیلئے بھی حامی ہے۔ اب وہ بغاوت پھیلانے کے لئے اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی دینی حمایت انگریزوں کے ذریعہ سے ہمیں پہنچی ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ دین کا حامی فقط سلطان روم ہے۔ مگر یہ سراسر خیانت ہے ۔ اگر یہ گورنمنٹ ہمارے دین کی محافظ نہیں تو پھر کیونکر شریروں کے حملوں سے ہم محفوظ ہیں۔ کیا یہ امرکسی پر پوشیدہ ہے کہ سکھوں کے وقت میں ہمارے دینی امور کی کیا حالت تھی اور کیسے ایک بانگ نماز کے سننے سے ہی مسلمانوں کے خون بہائے جاتے تھے۔ کسی مسلمان مولوی کی مجال نہ تھی کہ ایک ہندو کو مسلمان کر سکے ۔ اب محمد حسین ہمیں جواب دے کہ اُس وقت سلطان روم کہاں تھا اور اس نے ہماری اس مصیبت کے وقت ہماری کیا مدد کی تھی ؟ پھر وہ ہمارا دینی پیشوا اور خدا کا سچا خلیفہ کیونکر ہوا ۔ آخر انگریز ہی تھے جنہوں نے ہم پر یہ احسان کیا کہ پنجاب میں آتے ہی یہ ساری روکیں اٹھا دیں ہماری مسجد میں آباد ہو گئیں ۔ ہمارے مدر سے کھل گئے اور عام طور پر ہمارے وعظ ہونے لگے اور ہزار ہا غیر قوموں کے لوگ مسلمان ہوئے۔