کشف الغطاء — Page 203
روحانی خزائن جلد ۱۴ کشف الغطاء کر دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی بدی کا مقابلہ نہ کریں اور غریبانہ طرز پر زندگی بسر کریں اور اپنے نفس پر بھی میں نے یہی لازم کیا ہے کہ ان پلید تہمتوں اور بہتانوں کے مقابل پر خاموش رہوں۔ اسی وجہ سے ان لوگوں کی او باشانہ باتوں کے مقابل پر ہمیشہ میں نے اور میری جماعت نے خاموشی اختیار کی۔ ایک منصف غور کر سکتا ہے کہ یہ کس قدر دل دکھانے والا طریق تھا کہ اس محمد حسین مولوی نے محمد بخش جعفر ز علی اپنے دوست کے ذریعہ سے یہ اشتہار میری نسبت دیا کہ اس شخص کی بیوی اس کی جماعت سے آشنائی یعنی نا جائز تعلق رکھتی ہے مگر میں اس بہتان کے سننے سے خاموش رہا۔ پھر ایک دوسرے اشتہار میں لکھا کہ سنا ہے کہ یہ شخص مر گیا اور اس کا گوشت کتوں نے کھایا میں نے پھر بھی صبر کیا۔ پھر میری نسبت لکھا کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ اس کی بیوی آوارہ ہو کر محمد بخش جعفر زٹلی سے نکاح کرے گی اور محمد حسین نکاح پڑھے گا۔ پھر بھی میں نے صبر کیا۔ پھر ایک اور اشتہار میں مجھے ایک ریچھ قرار دے کر ایک تصویر ریچھ کی بنائی اور اس کے گلے میں رسہ ڈالا اور ساتھ اس کے گالیاں لکھیں۔ اور پھر ایک اور اشتہار میں یہ الہام ظاہر کیا کہ یہ شخص قید ہو جائے گا اور کوڑھی ہو جائے گا ۔ اور پھر اسی محمد حسین نے اشاعۃ السنہ میں ایک جگہ لکھا کہ یہ شخص خونی ہے بدکار ہے اور باغی ہے ۔ ان تمام اشتہارات کے بعد ان لوگوں نے بار بار مباہلہ کی درخواست کی اور ان درخواستوں میں بھی گالیاں دیں ۔ آخر نرمی اور ملائمت سے میری طرف سے ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کا اشتہار نکلا جس کا صرف یہ مطلب تھا کہ خدا ہم دونوں میں سے جھوٹے کو ذلیل کرے ۔ مگر الہام میں ذلت کے ساتھ مثل کی شرط رکھی گئی ہے۔ غرض جو کچھ مجھ میں اور ان میں آج تک واقع ہوا اس کی یہی کیفیت تھی جو میں نے بیان کی اور محمد حسین اور محمد بخش جعفر زٹلی کے تمام گندے اشتہار میرے پاس موجود ہیں جن کا مضمون بطور خلاصہ اس رسالہ میں لکھ دیا گیا ہے۔ اور ان کی تاریخ طبع مع نام مطبع ذیل میں لکھتا ہوں۔