جنگ مقدّس — Page 209
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۷ جنگ مقدس بیان حضرت مرزا صاحب ۳۱ رمئی ۱۸۹۳ء ڈپٹی صاحب کا کل کا سوال جو ہے کہ رحم بلا مبادلہ ہرگز جائز نہیں آج کسی قدر اس کا تفصیل سے جواب لکھا جاتا ہے۔ واضح ہو کہ رحم بلا مبادلہ میں عیسائی صاحبوں کا یہ اصول ہے کہ خدا تعالیٰ میں صفت عدل کی بھی ہے اور رحم کی بھی۔ صفت عدل کی یہ چاہتی ہے کہ کسی گناہگار کو بغیر سزا کے نہ چھوڑا جائے۔ اور صفت رحم کی یہ چاہتی ہے کہ سزا سے بچایا جائے اور چونکہ عدل کی صفت رحم کرنے سے روکتی ہے اس لئے رحم بلا مبادلہ جائز نہیں۔ اورمسلمانوں کا یہ اصول ہے کہ رحم کی صفت عام اور اول مرتبہ پر ہے جو صفت عدل پر سبقت رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ قَالَ عَذَالَی آصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَئ ا س ۹٫۹ ۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے۔ اور غضب یعنی صفت عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے یعنی یہ صفت قانون الہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے اور اسکے لئے ضرور ہے کہ اول قانون الہی ہو۔ اور قانون الہی کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا ہو اور پھر یہ صفت ظہور میں آتی ہے اور اپنا تقاضا پورا کرنا چاہتی ہے۔ اور جب تک قانون نہ ہو یا قانون کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا نہ ہو مثلاً کوئی شخص قانون الہی کے سمجھنے کے قابل نہ ہو۔ جیسے بچہ ہو یاد یوانہ ہو یا قسم حیوانات سے ہو اس وقت تک یہ صفت ظہور میں نہیں آتی ہاں خدا تعالیٰ اپنی مالکیت کی وجہ سے جو چاہے سو کرے کیونکہ اُس کا اپنی ہر ایک مخلوق پر حق پہنچتا ہے تو اب اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ عدل کو رحم کے ساتھ کچھ بھی علاقہ نہیں رحم تو اللہ تعالے کی ازلی اور اوّل مرتبہ کی صفت ہے جیسا کہ حضرات عیسائی صاحبان الاعراف: ۱۵۷